ہفتہ‬‮ ، 14 مارچ‬‮ 2026 

2000 کروڑ کی کرپٹو کرنسی چرا لی گئی

datetime 12  اگست‬‮  2024 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت میں 2 ہزار کروڑ روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی چْرائی گئی۔ پیلورس ٹیکنالوجی اور کرسٹل انٹیلی جنس نے تحقیق کے ذریعے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ کس طور لوگوں کے والیٹ سے اتنی بڑی رقم نکال لی گئی جبکہ شناخت کے کئی مراحل درپیش ہوتے ہیں۔یہ بھارت میں کرپٹو کرنسی کی چوری کا سب سے بڑا کیس ہے۔ گزشتہ ماہ وزیر ایکس ایکسچینج سے جْڑے ایک والیٹ سے دو ہزار کروڑ روپے کے مساوی کرپٹو کرنسی چرائی گئی۔ہزاروں افراد اپنے سرمائے سے محروم ہوئے۔ وزیر ایکس نے اس واردات کی اطلاع سینٹرل سائبر کرائم پورٹل، فائنانشل انٹیلی جنس یونٹ اور دی انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم کو دی۔ دہلی پولیس نے مقدمہ بھی درج کیا۔

چوری کا یہ منصوبہ 10 جولائی سے بنایا جارہا تھا۔دی بلاک چین انٹیلی جنس فرم کرسٹل انٹیلی جنس کرپٹو منی کی بلاک چین مین ٹریلز کو ریئل ٹائم میں مانیٹر کرتا ہے۔ وزیر ایکس نے والیٹ کی شناخت فراہم کی تھی۔ جب دنیا بھر کے سائبر انویسٹی گیٹرز نے کرسٹل ٹولز کے ذریعے منی ٹریل کا سراغ لگایا تو معلوم ہوا کہ 18 جولائی کو 200 ٹرانزیکشن ہوئے۔کرسٹل انٹیلی جنس کے کنٹری مینیجر سنجیو شاہی کہتے ہیں کہ چور نے 23 کروڑ ڈالر اپنے والیٹ میں منتقل کیے۔

یہ رقم مختلف کرپٹو کرنسیز میں تھی۔ منی ٹریل سے معلوم ہوا کہ چوری کی تیاریاں بہت پہلے سے کی جارہی تھیں۔ ایکسچینج کرپٹو ٹرانزیکشنز کے لیے جو فیس چارج کرتے ہیں اسے گیس فی کہتے ہیں۔ماہرین بتاتے ہیں کہ چور نے یہ فیس ادا کرنے کے لیے اپنے والیٹ میں 1080 ڈالر کی کرپٹو کرنسی ٹانیڈو کیش نامی والیٹ کے ذریعے جمع کروائی۔



کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…