جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

امارات کے زیرِآب علاقوں میں لوگ کشتیاں استعمال کرنے پر مجبور

datetime 18  اپریل‬‮  2024 |

ابوظہبی(این این آئی)متحدہ عرب امارات میں ریکارڈ بارشوں کے بعد شہریوں کو اب تک شدید مشکلات کا سامنا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بہت سے علاقوں میں اب تک پانی کھڑا ہے جس کے باعث لوگوں کو آمد و رفت میں الجھنیں درپیش ہیں۔ بہت سے لوگوں کو گھر کے لیے سامان خریدنے کی خریداری کشتیوں کا سہارا لینا پڑا ہے۔ یہی حال ان کا ہے جن کی گاڑیاں پانی میں کھڑی ہیں۔

انہیں گاڑیوں تک پہنچنے کے لیے پانی ایک فٹ تک پانی سے گزرنا پڑتا ہے۔العین اور دیگر علاقوں میں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ٹب اور دیگر اشیا کی مدد سے کام چلا کشتیاں تیار کی ہیں تاکہ دکانوں تک آسانی سے پہنچ سکیں۔ پانی اتنا ہے کہ فٹ پاتھ بھی ڈوب گئے ہیں اس لیے لوگوں کو پتا ہی نہیں چل پاتا کہ سڑک کہاں ختم ہوتی ہے اور فٹ پاتھ کہاں شروع ہوتے ہیں۔ شارجہ کے کئی علاقوں میں بہت سے لوگ عارضی کشتیوں میں بیٹھ کر فرش صاف کرنے والے برش اور وائپرز کو چپو کے طور پر چلاتے ہوئے خریداری کے لیے دکانوں کی طرف جاتے ہوئے دیکھے گئے۔ بہت سے لوگوں نے لکڑی کے تختوں اور گدوں کی مدد سے کشتیاں بنائیں۔بارش کے پانی میں ڈوبی سڑکوں کے باعث لوگوں کے لیے دکانوں تک جانا بھی دشوار ثابت ہوا۔ بہت سوں نے متعلقہ اداروں سے عارضی کشتیاں فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

شارجہ سے ملحق المجاز نامی علاقے میں ایک درجن سے زائد کشتیاں دیکھی گئیں۔ بہت سے لوگوں کو کام پر جانے کی خاطر اپنے علاقے سے نکلنے کے لیے بھی اِن عارضی کشتیوں کا سہارا لینا پڑا۔بہت سے لوگوں نے چھوٹی کشتیاں نکال کر آمد و رفت میں لوگوں کی مدد کی۔ 33 سالہ محمد اسماعیل نے اپنی کشتی نکال کر پانی میں گِھرے ہوئے لوگوں کی مدد کی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے کشتی کے استعمال کے لیے کسی سے کچھ وصول نہیں کیا۔

اگر کوئی کچھ دینا چاہے تو اس کی مرضی۔العین، شارجہ اور دوسرے بہت سے علاقوں میں لوگ اپنی گاڑیاں استعمال کرنے سے بھی قاصر ہیں کیونکہ بیشتر سڑکیں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ کاروباری اداروں کو بھی لوگوں کی مشکلات کا احساس ہے اس لیے کام کے حوالے سے قوائد میں نرمی برتی جارہی ہے۔محمد عمر نے بھی لوگوں کو اپنی کشتی میں بٹھاکر علاقے سے نکالا تاکہ وہ کام پر جاسکیں یا خریداری کرسکیں۔ مشکل گھڑیوں میں لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے دکھائی دیے۔ جس سے جس قدر ہو پائی اتنی مدد کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…