جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان نے امریکی فوج کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت اور زمینی رسائی بھی دیدی،پینٹاگون کی تصدیق

datetime 24  مئی‬‮  2021 |

واشنگٹن(این این آئی)پینٹاگون کے عہدیدار نے کہاہے کہ پاکستان نے امریکی فوج کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت اور زمینی رسائی دے دی تاکہ وہ افغانستان میں اپنی موجودگی کو یقینی بنا سکے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ہند ۔ بحر الکاہل امور کے لیے اسسٹنٹ سیکریٹری برائے دفاع ڈیوڈ ایف ہیلوے نے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کوبتایا کہ

امریکا، پاکستان سے اپنی بات چیت جاری رکھے گا کیونکہ اس کا افغانستان میں امن کی بحالی میں کلیدی کردار ہے۔پینٹاگون کے عہدیدار نے یہ بار مغربی ورجینیا سے ڈیموکریٹ سینیٹر جو مانچِن کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی جنہوں نے ان سے سوال کیا تھا کہ پاکستان کے بارے میں بالخصوص اس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے متعلق اپنے اندازوں اور جو کردار آپ ان سے ہمارے مستقبل میں ادا کرنے کی توقع رکھتے ہیں اس کا خاکہ پیش کریں۔ڈیوڈ ایف ہیلوے نے جواب میں کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں اہم کردار ادا کیا ہے، اس نے افغان امن عمل کی حمایت کی، افغانستان میں ہماری فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت اور زمینی رسائی دی۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے مستقبل کی حمایت اور کردار ادا کرنے اور افغانستان میں امن کے لیے ہم پاکستان سے اپنی بات چیت جاری رکھیں گے۔واشنگٹن میں موجود سفارتی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے امریکا کو افغانستان

میں اس کی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے ہمیشہ اس کی فضائی حدود استعمال کرنے اور زمینی رسائی دی ہے اور وہ یہ سلسلہ جاری رکھے گا۔قبل ازیں سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں شمالی ڈکوٹا سے ریپبلیکن سینیٹر کیون کریمر نے پینٹاگون کے عہدیدار سے سوال کیا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کو واپسی سے روکنے کے لیے امریکا کو خطے میں

کس قسم کی انسانی اور غیر انسانی صلاحیتوں کی ضرورت ہوگی۔ڈیوڈ ایف ہیلوے نے جواب میں کہا کہ ‘وہ چیزیں جو افغانستان میں ہمارے پاس نہیں ہیں جیسا کہ فضائی حدود کے استعمال کی اجازت۔انہوں نے کہا کہ ایسے دیگر اثاثے بھی ہیں جو خطے میں موجود نہیں ہیں اور امریکا کے پاس انہیں خطے میں لانے کی صلاحیت ہے۔سینیٹر جو مانچن نے انہیں یاد دہانی

کرائی کہ حقیقت میں گرانڈ پر کوئی اثاثہ نہ ہونے کے باعث واشنگٹن کو امریکا کے ساتھ کام کرنے کے لیے اپنی علاقائی شراکت داروں پر انحصار کرنا ہوگا۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا آپ ہمارے علاقائی شراکت داروں، ان کی صلاحیتوں اور دہشت گردوں کو خطے سے باہر رکھنے کے لیے ان کے عزائم سے مطمئن ہیں؟ڈیوڈ ایف ہیلوے نے کہا کہ امریکی محکمہ

دفاع اس وقت اپنے انٹر ایجنسی ساتھیوں کے ساتھ درست انتظامات، تعلقات اور فریم ورک کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ افغانستان دوبارہ کبھی دہشت گردوں کے لیے جنت ثابت نہ ہو۔گزشتہ ماہ امریکی صدر جو بائیڈن نے رواں سال 11 ستمبر تک افغانستان سے تمام امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔امریکا اور طالبان کے درمیان گزشتہ سال 29 فروری کو افغان جنگ کے خاتمے اور امریکا کی طویل ترین جنگ کے بعد امریکی فوج کو واپس بلانے کے لیے معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…