جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

چاند خانہ کعبہ کے عین اوپر کب ہوگا؟قبلہ رُخ متعین کرنے کیلئے اہم رات

datetime 24  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)جمعرات 28 جنوری کو چاند خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا۔سعودی ماہر فلکیات کے مطابق خانہ کعبہ کے اوپر پور اچاند مقامی وقت رات 10 بج کر 16 منٹ پر ہوگا۔پاکستانی وقت کے مطابق خانہ کعبہ کے اوپرپورا چاند 28 جنوری کو رات 12 بج کر 16منٹ پر ہوگا۔سعودی اخبار کے مطابق 2021 میں یہ پہلی بار

ہوگاجب پورا چاند کعبہ کے اوپر ہوگا۔چاند کے عین خانہ کعبہ کے اوپر دکھائی دینے سے قبلے کا رخ متین کرنے میں آسانی ہو تی ہے، ماضی میں کعبہ کی سمت کا تعین اسی طرح کیاجاتا تھا۔واضح رہے کہ مسجد نبوی کے میناروں کو صدیوں سے فن تعمیر کے شاہکار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ مسجد نبوی کی توسیع کے ساتھ ہردور میں اس کے میناروں کی خوبصورتی، سجاوٹ اور بناوٹ میں نئے طریقے استعمال کیے جاتیت رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسجد نبوی کے میناروں کو جدید قدیم فن تعمیر کے شاہکار کہا جاتا ہے۔ یہ مینار اپنی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ انہیں جس سمت سے بھی دیکھا جائے یہ دیکھنے میں اسلامی فن تعمیر کے منفرد نمونے لگتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے مسجد کے لیے مینار اس وقت متعارف فرمائے جب موذن رسول حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ مسجد کے قریب ایک گھر کی چھت سے اذان دیا کرتے تھے۔مسجد نبوی کی توسیع کے مراحل پر نظر ڈالیں تو ہمیں مسجد کے ساتھ ساتھ میناروں کی تعمیر ومرمت کی تجدید بھی ملتی ہے۔ 1370ھ سے 1375ھ کے دوران مسجد نبوی کی توسیع کے دوران مسجد کے 4 مینار رکھے تھے۔ جب کہ شمال مغربی، شمال مشرقی مینار اور باب رحمت میناروں کو ہٹا دیا گیا۔ ان کی جگہ شمال مشرق کی سمت میں اور

دوسرا شمال مغرب کی سمت میں دو نئے مینار بنائے گئے۔ ان میں سے ہرمینار کی اونچائی 70فٹ اور گہرائی 17 فٹ تھی۔ہرمینار چار منزلوں پر مشتمل تھا۔ زیریں منزل مربع شکل میں تعمیر کی گئی جو مسجد کی سطح کے برابر ہے۔اس منزل میں چاروں میناروں میں ایک بال کونی بنائی گئی۔ دوسری منزل تین کونوں کی شکل میں بنائی گئی اور

اس میں بھی ایک بالکونی شامل ہے۔ تیسری منزل تین کونوں کی شکل میں مگرمختلف رنگوں میں تعمیر کی گئی۔ چوتھی منزل کو گول شکل میں تعمیر کیا گیا اور اس پرمخروطی شکل میں گنبد تیار کیا گیا۔مسجد نبوی کی سعودی دور میں دوسری توسیع کے دوران میناروں کی تعداد چھ کردی گئی۔ ان میں سے ہرمینار کی بلندی 104 میٹر کردی گئی۔ یوں ہرمینار کی پہلے سے موجود اونچائی میں 32 فٹ کا اضافہ کیا گیا۔ ہرمینار کی گہرائی 45 سے 50 میٹر

تک کر دی گئی۔دوسری توسیع میں مسجد نبوی کے مختلف کونوں میں مینار تعمیر کیے گئے۔ شمالی سمت میں چار، شمالی مشرقی کونے میں ایک اور شمال مغربی سمت میں ایک مینار تعمیر کیا گیا۔ ان میں سے دو مینار شمال کی سمت میں شاہ فہد باب اور وسطی باب کے درمیان ہیں۔ جنوب مشرقی مینار اور جنوب مغربی میناروں پانچ پانچ منزلہ ہیں۔ ہرمینار کی بنیاد مربع شکل میں ہے اور ان کے ضلع کا رقبہ پانچ پانچ میٹر اور بلندی 27 میٹر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…