اسلام آباد (نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی بات چیت کو مثبت قرار دیے جانے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کے نرخوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
ایشیائی مارکیٹ میں کاروبار کے ابتدائی مرحلے کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 98.91 ڈالر فی بیرل تک آگئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 89.93 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس حالیہ عرصے میں کئی مرتبہ 100 ڈالر کی سطح عبور کرچکے تھے۔تیل کی قیمتوں میں کمی کو امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں سے پیدا ہونے والی امیدوں سے جوڑا جارہا ہے۔ مارکیٹ میں یہ توقع پیدا ہوئی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی جانب پیش رفت کے لیے مذاکرات کا راستہ کھل سکتا ہے۔ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ ملاقات کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان تقریباً تین گھنٹے تک بات چیت ہوئی۔ امریکی صدر کے مطابق یہ ملاقات انتہائی اچھی اور نتیجہ خیز رہی جبکہ دونوں فریقوں کے درمیان جلد ایک اور نشست بھی متوقع ہے۔دوسری جانب مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل بھی عالمی منڈی میں قیمتوں کے لیے اہم عوامل بنے ہوئے ہیں۔
حالیہ دنوں میں ہرمز کے راستے تیل کی نقل و حرکت میں بہتری اور سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی بحالی سے متعلق اطلاعات نے بھی سپلائی کے خدشات کم کیے ہیں۔ماہرین کے مطابق امریکا ایران رابطوں میں کسی ٹھوس پیش رفت کی صورت میں خطے میں کشیدگی کم ہونے اور عالمی تیل کی سپلائی بہتر ہونے کی توقعات مزید مضبوط ہوسکتی ہیں، تاہم حتمی سفارتی پیش رفت کے حوالے سے صورتحال ابھی غیر یقینی ہے۔



















































