جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

ایران نے پہاڑوں کو جوہری ری ایکٹرزمیں تبدیل کر دیا عالمی ذرائع ابلاغ کے اہم انکشافات

datetime 10  دسمبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

تہران(این این آئی)مصنوعی سیاروں سے حاصل ہونے والی تصاویر کی روشنی میں امریکی اور عالمی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی حکومت پہاڑوں کوجوہری ری ایکٹرزمیں تبدیل کرنے کی پالیسی پر تیزی کے ساتھ عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔

عرب ٹی وی کے مطابق زمین پر ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ جولائی میں ایران کے نطنز جوہری پلانٹ میں ہونے والے تباہ کن دھماکوں کے بعد ایران نے عمارت دوبارہ تعمیر کرلی ہے۔ اس کے علاوہ ایرانی حکومت نے اس علاقے میں سڑکوں کا جال بچھا دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق نطنز جوہری مرکزمیں ہونے والے پراسرار دھماکوں سے ہونے والی تباہی ایران کو اس مرکز کی دوبارہ تعمیر سے باز نہیں رکھ سکی۔ایران کی جوہری توانائی ایجنسی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ دھماکوں سے تباہ ہونے والی عمارت کو وہیں پر دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔نطنز جوہری پلانٹ تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے اسے عام آنکھ سے تو نہیں دیکھا جاسکتامگر مصنوعی سیاروں سے حاصل ہونے والی تازہ تصاویر نے پہاڑوں کے اندر ایران کی جوہری سرگرمیوں کا بھانڈہ پھوڑ دیا ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ نطنز جوہری پلانٹ کے جنوبی پہاڑی چوٹیوں اور ٹیلوں میں زیرزمین سرنگیں

دیکھی گئی ہیں۔ یہ سرنگیں سیٹلائٹس سے حاصل ہونے والی تصاویر میں سامنے آئی ہیں۔تصاویر میں ایک ماہ کے وقفے سے ہونے والی تبدیلیوں کا پتا چلتا ہے۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا تھا کہ نطنز جوہری پلانٹ کا راستہ جنوبی تہران سے کوئی 225 کلو میٹر دور

معلوم ہوتا ہے۔ یہ جگہ سینٹری فیوجز کو جمع کرنے یا انہیں ذخیرہ کرنے کے لیے انتہائی محفوظ خیال کی جاتی ہے۔ یہ جگہ عام شاہراہ سے کافی فاصلے پر ہے۔ یہاں کی ٹیلے ہیں جو کسی بھی فضائی حملے میں اس جوہری ری ایکٹر کو تحفظ دے سکتے ہیں۔ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ اگر دوسرے ممالک جوہری معاہدے سے الگ ہوئے تو تہران مرکزی سینٹری فیوجز سینٹر کو ختم کردے گا اور اس کے بعد مختلف مقامات پر پلانٹ لگائے جائیں گے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…