بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

فرانسیسی صدر دماغی مریض ہے اسے علاج کی ضرورت ہے، یورپ صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا، مساجد بند کرنے اور مسلمانوں کیخلاف کریک ڈاؤن پر طیب اردگان کی فرانس اور یورپ پر شدید تنقید

datetime 24  اکتوبر‬‮  2020 |

انقرہ (نیوز ڈیسک) ترک صدرطیب اردگان نے فرانسیسی صدر کو دماغی مریض قرار دے دیا، انہوں نے کہا کہ فرانسیسی صدر دماغی مریض ہے اور اسے علاج کی ضرورت ہے۔ ترکی کے صدر طیب اردگان نے مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور

مساجد کی بندش کے معاملے پر فرانس اور یورپ کو کھری کھری سنا ڈالیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام دشمنی کے چکر میں یورپ صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔یورپ کو اسلام دشمنی لے ڈوبے گی اور یورپ خود اس چکر میں پڑ کر اپنے آپ کو ختم کر لے گا۔ترکی کے صدر نے کہا کہ یورپ اسلام اور مسلمان دشمنی کی اس بیماری سے جلد باہر نہ آیا تو پورا یورپ صفحہ ہستی سے ختم ہو جائے گا۔فرانس کے صدر میکرون کوطیب اردگان نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا، مسلمانوں کے خلاف بیان پرکہا کہ فرانسیسی صدر دماغی مریض ہے جسے علاج کی ضرورت ہے۔انہوں نے تو تعصبانہ سوچ کی وجہ سے فرانسیسی صدر کو انتخابات میں شکست کی پیشگوئی بھی کر دی۔انہوں نے کہا کہ 2022 کے بعد وہ فرانس کے صدر نہیں رہیں گے۔ یاد رہے کہ کچھ روز قبل فرانس کے دارالحکومت پیرس میں حضورﷺ کے خاکے دکھانے والے ایک استاد کو ایک مسلمان نوجوان نے مار دیا تھا جس پر وہاں ایک مسجد کو بھی بند کر دیا گیا اور فرانس کے صدر نے مسلمانوں کے خلاف زبان استعمال کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…