ہفتہ‬‮ ، 05 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کیلئے حکومت کے فنڈز خرچ کرنے کا معاملہ متنازع ہوگیا آپ کی کیا رائے ہے؟عالمی شہرت یافتہ مذہبی سکالر ڈاکٹر ذ اکر نائیک کے زبردست جواب نے معاملہ ہی ختم کردیا

datetime 15  جولائی  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف مذہبی سکالر ڈاکٹر ذ اکر نائیک نے کہا ہے کہ مندر کی تعمیر کیلئے حکومت فنڈز نہیں دے سکتی۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کے ایک شہری عامر وسیم نے ان سے یہ استفسار کیا تھا کہ اسلام آباد میں ہندوئوں کیلئے مندر کی تعمیر کیلئے حکومت کے فنڈز خرچ کرنے کا معاملہ متنازع ہوگیا ہے آپ کی کیا رائے ہے؟ڈاکٹر ذاکر نائیک نے جواب دیا کہ امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک، امام احمد بن حنبل اور امام شافعی کی متفقہ رائے ہے

کہ کوئی مسلم غیرمسلموں کی عبادت گاہ بشمول چرچ یا مندر کیلئے عطیہ نہیں دے سکتا۔انہوں نے سورۃ مائدہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپ باہمی تعاون تقویٰ کیلئے کریں ساتھ ہی منع فرمادیا گیا کہ گناہ کیلئے تعاون نہ کریں اور شرک سے بڑا گناہ اور کیا ہوسکتا ہےلہذا یہ کس طرح ممکن ہے کہ کوئی مسلم مندر کیلئے عطیہ دے۔واضح رہے کہ اسلام آباد میں مندر کے تعمیرکے معاملے کو لیکر سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…