جمعرات‬‮ ، 14 مئی‬‮‬‮ 2026 

اپنی سرزمین پر تعمیر بھارتی سڑک کو لیز پر دے سکتے ہیں لیکن ۔۔۔نیپال نے مودی حکومت کو صاف صاف جواب دیدیا

datetime 18  مئی‬‮  2020 |

کھٹمنڈو( آن لائن )نیپال کا کہنا ہے کہ  بھارت نے اس کی سرزمین پر جس سڑک کی تعمیر کی ہے، وہ زمین انڈیا کو لیز یا کرائے پر تو دی جاسکتی ہے لیکن اس پر دعوی نہیں چھوڑا جاسکتا ہے۔ نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے ایک کل جماعتی اجلاس طلب کیا تھا جس میں سابق وزرا اعلی نے بھی شرکت کی تھی۔نیپال مزدور کسان پارٹی کے ممبر پارلیمان پریم سوال نے اس میٹنگ کے بعد بتایا

وزیر اعظم نے سبھی رہنماں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ  بھارت  کی حمایت میں اس زمین پر اپنا دعوی نہیں چھوڑیں گے۔نیپال کے وزیر خارجہ پردیپ کمار گاہوالی نے کہا، وزیر اعظم نے اس اجلاس میں کہا کہ حکومت اپنے آبا اجداد کی زمین کی حفاظت کرے گی۔ انھوں نے سبھی لیڈران سے اس معاملے پر تحمل سے کام لینے کی گذارش بھی کی ہے۔ بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ 8 مئی کو لپو لیکھ کے قریب ہوکر گزرنے والے اتراکھنڈ مانسرور روڈ کا افتتاح کیا تھا۔لپو لیکھ وہ علاقہ ہے جہاں چین، نیپال اور انڈیا کی سرحدوں سے متصل ہے۔نیپال انڈیا کے اس قدم کے بارے میں ناراض ہے۔ لپو لیکھ میں مبینہ ‘قصبے’ کے معاملے پر نیپال میں انڈیا مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی حکومت نے اس سلسلے انڈیا کے سامنے لپو لیکھ علاقے پر نیپال کے دعوی کے دوہراتے ہوئے سخت الفاظ میں سفارتی احتجاج درج کرایا ہے۔اتراکھنڈ کے دھارچولہ علاقے کے مشرق میں مہا کالی ندی کے کنارے نیپال کا دارچولہ علاقہ واقع ہے۔ مہا کالی ندی انڈیا کی سرحد کے طور پر کام کرتی ہے .نیپال کی حکومت کا کہنا ہے بھارت نے اس کے لپو لیکھ علاقے میں 22 کلو میٹر لمبی سڑک تعمیر کی ہے.نیپال نے اس قبل بھی 2019 کے نومبر میں بھارت کے سامنے اپنا احتجاج درج کرایا تھا۔جموں و کشمیر کی تقسیم کے وقت جو سیاسی نقشہ جاری کیا گیا تھا اس میں سرکاری طور پر کالہ پانی علاقے کو بھارتی سرحد کے اندر دکھایا گیا تھا۔کالہ پانی کا علاقہ اسی لپو لیکھ کے مغرب میں واقع ہے۔ ایک لمبے وقت سے نیپال کا اس علاقے پر دعوی ہے .سال 2015 میں جب چین اور بھارت کے درمیان کاروبار کو فروغ دینے کے لیے معاہدہ ہوا تھا تب بھی نیپال نے دونوں ممالک کے سامنے سرکاری طور پر اپنا احتجاج درج کرایا تھا۔نیپال کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے پہلے نہ تو بھارت اور نہ ہی چین نے اسے بھروسے میں لیا ہے جب کہ مجوزہ سڑک اس کے علاقے سے ہوکر گزرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…