اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیاء ہوتی ہے، 500 روپے کے لیے لائنیں لگوا کر غریبی کا مذاق اڑانے پر بھارتی سکھ کی مودی حکومت پر برس پڑا ، خواتین کا بڑا مطالبہ

datetime 17  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیاء ہوتی ہے ، غریب کا اچھا مذاق اڑانے کا طریقہ ہے 500روپے کی خاطر لمبی لمبی لائن میں لگوائو اور خود اقتدار میں بیٹھ کر مزے لو ۔ بھارتی سکھ مودی سرکار پر برس پڑا ۔ تفصیلات کے مطابق کرونا وائرس کی وجہ سے بھارت میں بھی لاک ڈائون کی کیفیت چل رہی ہے جس کی وجہ سے بھارتی حکومت کی جانب سے کرونا کی وجہ سے

بے روزگار ہونےوالے افراد کی امداد کیلئے 500روپے دیئے جارہے ہیں جو ان کیساتھ کسی مذاق سے کم نہیں ہیں ۔ اسی حوالے سے بھارتی سکھ نے اپنا ویڈیو پیغام بنا کر اپ لوڈ کیا جس میں اس کا کہنا تھا کہ ایوانوں میں بیٹھ کر اقتدار کا مزہ لوٹنے والے سیاستدانوں کو شرم نہیں آتی جو 500روپے کیلئے لائنیں لگوا کر غریبی کا مذاق اڑا رہے ہیں ۔ اس کا کہنا تھا کہ صبح صادق لوگ یہاں 500روپے کے حصول کیلئے جمع ہوتے ہیں جن کیلئے نہ تو کسی سائے کا انتظام ہے اور نہ ہی پانی پینے کا کوئی بندوبست ہے ۔ میں حاکم وقت نریندر مودی سے پوچھنا چاہتا ہوں جو اربوں روپیہ ایکٹرون سے اکھٹے ہوئے ہیں انہیں کہاں بھیجنا ہے ۔ ہمیں ہمارا حق دیا جائے ۔ بھارتی سکھ نے دہائی دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ایک طرف لاک ڈائون کی بات کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب چند سو روپے کیلئے بھارتی عوام کی زندگی میں ڈال کر بنا کسی رولز ریگولشن کے لائنیں لگوائی جارہی ہیں ۔ تاہم بھارتی خواتین نے بھی دہائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ مود ی سرکار کو چاہیے کہ بھارتی غریب عوام کا ڈیٹا بنا کر انہیں گھر گھر راشن دے تاکہ ہماری زندگیا ں محفوظ ہو سکیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…