بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

33 ترک خواتین نے مسلسل 9 ماہ کی محنت سے ایردوآن کے لیے قالین تیار کرلیا

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

انقرہ(این این آئی)انقرہ میں خلافت عثمانیہ کی طرز پر ایک عالیشان محل کی تعمیر کے بعد اب ان کے ایک بیش قیمت قالین کے میڈیا میں چرچے ہو رہے ہیں۔108 مربع میٹر پر محیط یہ قالین 33 خواتین نے 24 گھنٹے مسلسل 9 ماہ تک تین شفٹوں میں کام کرکے تیار کیا۔ترک صدر کے

لگڑری شاہی محل جس کے 1150 کمرے ہیں کے استقالیہ ہال میں بچھائے گئے قالین پر ایردوآن نے بڑے فخر کا اظہار کیا۔ اس محل کی تیاری پر60 کروڑ ڈالر سے زاید رقم صرف کی گئی۔ یہ ہال سفیروں سے ملاقات کے لیے مختص ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق ایک فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں صدر ایردوآن کے اس لگڑری قالین کی ایک ویڈیو موجود ہے۔ اس کے ساتھ اس کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ قالین کی تیاری میں 29 ملین، چار ہزار دو سوگرہیں لگائیں گئی ہیں۔ قالین کی تیاری پر اٹھنے والے اخراجات کی کوئی تفصیل موجود نہیں تاہم مسلسل نو ماہ تک اگر 33 خواتین کو ماہانہ ایک ہزار ڈالر کی تنخواہ بھی دی گئی ہو صرف تنخواہ کی یہ رقم 2 لاکھ 70 ہزار ڈالر بنتی ہے۔اسی قالین پر جمہوریہ اکواڈور کی سفیرہ اپنی سفارتی اسناد صدر ایردوآن کو پیش کررہی ہیں۔ ایک افریقی ملک کے سفیر سے بھی صدر سفارتی اسناد وصول کرتے ہیں۔ فوٹیج میں ایک بچی کو بھی قالین پر دیکھا جاسکتا ہے۔ عملہ اس بچی کو وہاں سے ہٹا رہا ہے تاکہ یہ بچی صدر طیب ایردوآن کی پسندیدہ قالین خراب نہ کردے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…