منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں ریاستی مظالم پر بھارتی نژاد امریکی رکن کانگریس بھی چیخ پڑیں،کھری کھری سنا دیں

datetime 12  ستمبر‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی) امریکی ہاؤس آف ریپرزینٹیٹو (کانگریس) کی واحد بھارتی نژاد قانون ساز پرامیلا جیاپال نے مقبوضہ وادی کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کو اس بات پرآمادہ کریں کہ وہ جاری کرفیو کا فوری طور پرخاتمہ کرے۔

امریکی ٹی وی کے مطابق پرامیلا جیا پال اور کانگریس مین جیمز پی میک گورن نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ کو مقبوضہ وادی کشمیر میں جانے کی اجازت دی جائے۔نشریاتی ادارے کے مطابق دونوں امریکی قانون سازوں نے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کو گیارہ ستمبر کے دن بھیجے جانے والے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ مقبوضہ وادی چنار میں مواصلاتی نظام کی معطلی کا خاتمہ کرے اور اسے بحال کرے۔امریکی سی آئی اے میں ڈائریکٹر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے چکنے والے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کو لکھے جانے والے خط میں پرامیلا جیا پال اور جیمز پی میک گورن نے زور دیا کہ امریکہ، بھارت کو اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ بے گناہوں کی رہائی یقینی بنائے، گرفتاری کے عمل کی دوبارہ تحقیقات کرے، اسپتالوں میں ادویات کی قلت دور کرکے انہیں فراہم کرے، کشمیریوں کو ان کی مذہبی عبادت کی آزادی مہیا کرے اور انہیں ان کی اسمبلی کا حق دے۔امریکی قانون ساز ادارے کے دونوں اراکین نے اس بات پرسخت تشویش ظاہر کی کہ مقبوضہ وادی کشمیر میں ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مذہبی آزادی کے حوالے سے صبر و تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرے کہ یہی جمہوریت کا چلن ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بھارت کی تاریخ خود اس کا ثبوت ہے۔ جیاپال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی مائیک پومپیو کو لکھے جانے والے خط کی کاپی شیئر کی ہے۔ انہوں نے بھارتی جمہوریت پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ بھارت مقبوضہ وادی کشمیر کے لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ میں یکسر ناکام ثابت ہوئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…