عراق میں امریکی فوج حرام قرار، ایرانی فتوے نے نیا تنازع کھڑا کر دیا

  پیر‬‮ 26 اگست‬‮ 2019  |  11:26

تہران (این این آئی)ایران کے ایک سرکردہ شیعہ عالم دین آیت اللہ کاظمی نے عراق میں امریکی فوج کی موجودگی کوحرام قرار دے دیا ہے جبکہ اس فتوی کے بعد عراق کے مذہبی اور سیاسی حلقوں میں ایک نیا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ ایرانی شیعہ عالم دین آیت اللہ کاظم حسین الحائری کے فتوے کی جہاں بہت سے حلقوں کی طرف سے مخالفت کی جا رہی ہے وہیں عراق کے سخت گیر شیعہ شدت پسندوں نے اس کی بھرپور حمایت اور تائید بھی کی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق عراق کے شیعہ سیاسی حلقے جو کسی حد ایران کے حامی بھی ہیں


کی طرف سے بھی کاظم حرائری کے فتوے پر تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ ایران میں بیٹھ کر عراق میں امریکی فوج کی موجودگی کو حرام قرار دینا عراق کے اندرونی سیاسی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ عراق کی دینی قیادت جن میں آیت اللہ علی سیستانی کے پائے کے ممتاز علماء کرام، عراقی پارلیمنٹ کے ارکان اور ملک میں موجود دیگر سرکردہ مذہبی قیادت کی طرف سے عراق میں امریکی فوج کی موجودگی کو حرام نہیں قراردیا گیا۔ ایران میں کوئی عالم دین ایسا کیوں کر کرسکتا ہے۔عراق کے سرکردہ شیعہ رہ نما مقتدیٰ الصدر کی طرف سے ایرانی عالم دین کے بیان پرحمایت کی توقع کی جاسکتی ہے مگر فی الحال مقتدیٰ الصدر کی طرف سے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ ان کی جماعت کے ترجمان سے اس بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے اس پرکوئی رد عمل دینے سے معذرت کی۔مقتدیٰ الصدر کے پیروکاروں کا خیال ہے کہ ایرانی عالم دین کاظم حرائری کا بیان کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ الصدری حرائر پرتنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایرانی عالم دین کی طرف سے سنہ 2006ء اور 2008ء کے دوران عراق میں ہونے والی لڑائی میں ان کی مدد نہیں کی گئی۔

موضوعات:

loading...