مقبوضہ کشمیر میں حالات کشیدہ،حریت رہنماؤں نے بھارتی اقدامات کیخلاف کشمیری عوام سے مشترکہ مارچ کی اپیل کردی

  بدھ‬‮ 21 اگست‬‮ 2019  |  18:18

سرینگر (این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں مزاحمتی رہنماؤں نے عوام پر زوردیا ہے کہ وہ بھارت کے کشمیر دشمن اقدامات اور جموں وکشمیر پراس کے غیرقانونی تسلط کے خلاف کرفیو اوردیگر پابندیاں توڑ کر سڑکوں پر مارچ کریں۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق حریت رہنماؤں نے یہ اپیل سرینگر میں رات کے دوران چسپاں کئے گئے پوسٹرز میں کی ہے جن میں غیر ریاستی باشندوں کو کشمیر میں بساکر علاقے میں آبادی کاتناسب تبدیل کرنے کے بھارت کے مذموم منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے عوام سے گھروں سے باہر نکل کر احتجاج کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔پوسٹرز میں علماء کرام پر


زوردیا گیا کہ وہ جمعہ کے خطبوں میں اس مسئلہ کو اجاگر کریں۔ حریت رہنماؤں نے کہا کہ بھارت سمیت دنیا کو یہ پیغام دینے کے لیے نوجوان، بزرگ،مرد اور خواتین سمیت تمام لوگ احتجاجی مظاہروں میں شرکت کریں کہ کشمیری عوام علاقے پر بھارتی قبضے اور ہندوثقافت مسلط کرنے کو قبول نہیں کریں گے۔دریں اثناء بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں بارہمولہ قصبے میں ایک کشمیری نوجوان کو شہید کردیا جبکہ بدھ کو مسلسل سترہویں روز بھی علاقے میں کرفیو اور مواصلاتی نظام معطل رہا۔شہیدنوجوان کی شناخت مومن احمد گوجری کے طورپرہوئی ہے اور اس کو بھارتی فوج کی راشٹریہ رائفلز، سینٹرل ریزروپولیس فورس اور سپیشل آپریشن گروپ نے قصبے کے علاقے کوکر حمام میں ایک مشترکہ کارروائی کے دوران شہید کیا۔ اسی علاقے میں ایک حملے میں بھارتی پولیس کا ایک افسر ہلاک اور ا سپیشل آپریشن گروپ کا ایک اہلکار زخمی ہوگیا تھا۔ بھارتی فوجیوں نے پلوامہ میں بھی اسی طرح کی کارروائی شروع کی۔سرینگر کے مختلف علاقوں میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے گھروں پر چھاپوں کے دوران کم سے کم چارلیس افراد کو گرفتار کرلیاگیاہے۔ بھارتی پولیس نے چندی گڑھ شہر سے بھی تین کشمیری نوجوانوں کو گرفتارکرلیاہے۔ سرینگر، پلوامہ اور وادی کشمیر کے دیگر علاقوں میں فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں میں اس وقت متعدد افراد زخمی ہو گئے جب انہوں نے کرفیو کی پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے گھروں سے نکل کر بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ ایک غیر ملکی خبر ایجنسی نے کشمیریوں کے اہلخانہ اور ہسپتال کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ دوہفتوں کے دوران مظاہرین پر بھارتی فوجیوں کی فائرنگ میں کم سے کم تین افراد شہید اورسوسے زائدزخمی ہو چکے ہیں۔ بدھ کو مسلسل سترہویں روزبھی مقبوضہ علاقے میں کرفیو اور دیگرسخت پابندیاں جاری رہیں جس سے کشمیر کی پوری محصور آبادی اور پیر پنچال اورچناب کی وادیوں میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ بھارتی فورسز نے سڑکیں خار دار تاروں اوررکاوٹیں کھڑی کر کے بند کررکھی ہیں۔ قابض انتظامیہ نے مواصلاتی پابندیاں بھی جاری رکھیں کیونکہ بی جے پی کی حکومت کی طرف سے5اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کئے جانے کے بعد سے ٹی وی چینل اور انٹرنیٹ سروس مسلسل معطل ہیں اور اخبارات کے آن لائن ایڈیشن شائع نہیں ہو سکے ہیں۔ قابض انتظامیہ نے دس ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ادھر دفعہ 370کی منسوخی کے بعد بھارتی حکومت کے حکم پر نئی دلی کے ہوٹلوں میں کشمیریوں کو رہائش کی سہولت نہیں دی جارہی ہے۔ بعض متاثرہ کشمیریوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹوں پر اپنی داستان بیان کرتے ہوئے کہاہے کہ کیسے نریندر مودی کی حکومت کی ہدایات پر نئی دلی میں ہوٹل مالکان نے انہیں رہائش دینے سے انکار کردیا ہے۔ ایران کے شہر شیراز میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ایک بڑی ریلی نکالی گئی۔

loading...