منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

بھارت نے تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کیلیے نیا ہتھکنڈا آزمانے کا فیصلہ

datetime 30  مارچ‬‮  2019 |

سرینگر( آن لائن )بھارت نے تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کیلیے نیا ہتھکنڈا آزمانے کا فیصلہ کیاہے ۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کیلئے ٹیررازم مانیٹرنگ گروپ (ٹی ایم جی)یعنی مخصوص دہشتگردی نگرانی گروپتشکیل دے دیا ہیٹی ایم جی کا ہفتہ وار اجلاس ہو گااور یہ گروپ ایکشن رپورٹ پیش کریگا۔اس گروپ میں پولیس، انٹیلی جینس ایجنسیوں کے حکام شامل ہونگے۔ بھارتی حکومت کی طرف سے حکم نامہ جاری کر دیا گیاہے۔

بھارت کی جانب سے اس گروپ کی آڑ میں کشمیریوں کی جائیداد، املاک اور گھروں کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنایا گیاہے ۔دہشتگردوں کی مالی معاونت کے بہانے بے گناہوں کی گرفتاریاں کی جائیں گی ۔ کشمیری تنظیموں کیخلاف کریک ڈان کا نیا سلسلہ شروع ہو گا۔تحریک آزادی کیلئے چندہ اکٹھا کرنے والیافراد یا تنظیمیں خصوصی طور پر نشانہ ہوں گے۔بھارت تحریک آزادی کشمیر میں اساتذہ کی شمولیت پر بھی خائف ہے ۔ نگرانی گروپ اساتذہ، سرکاری ملازمین کیخلاف بھی ایکشن لے گاغاصب بھارت تحریک آزادی کشمیر کی معاونت کرنے والے ہر شخص کو نشانہ بنائے گا۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی انتہا ہوگئی جس وجہ سے کشمیری دانشور بھی ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔یہ انکشاف امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے ۔ اخبار نے لکھا ہے کہ انتہائی تعلیم یافتہ اساتذہ اورطلبہ بھی بھارت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ لکھتا ہے کہ 2013میں مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے والے نوجوانوں کی تعداد صرف16تھی۔ 2017کیمقابلے میں مزاحمتی تحریک میں نوجوانوں کی شرکت2018میں52 فیصد بڑھی۔اخبار نے بھارتی فوج کے اہلکارکے حوالے سے لکھا کہ 2018میں191 کشمیری نوجوانوں نے مزاحمتی تحریک میں شمولیت اختیارکی۔2008کے بعدسیمزاحمتی تحریک میں شامل ہونے والے نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…