اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

شام میں ایک ہزار فوجی باقی رکھنے سے متعلق رپورٹ بے بنیاد ہے، امریکا

datetime 18  مارچ‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکا کی جانب سے اس اخباری رپورٹ کی سختی سے تردید کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکا شام میں اپنے ایک ہزار کے قریب فوجی چھوڑنے کا ارادہ رکھتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی اخبار وال کہا تھا کہ شمال مشرقی شام میں سیف زون سے متعلق کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ترکی اور امریکی حمایت یافتہ کرد فورسز کے ساتھ بات چیت ناکام ہو جانے کے بعد

اب امریکا ملک میں کرد جنگجوؤں کے ساتھ کام جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اخبار نے امریکی عہدے داران کے حوالے سے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت شام میں ایک ہزار کے قریب امریکی فوجیوں کو باقی رکھا جا سکتا ہے۔امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل جوزف ڈینفور نے ایک بیان میں کہا کہ ایک بڑے امریکی اخبار کی جانب سے سامنے آنے والا یہ دعوی کہ امریکی فوج شام میں ایک ہزار فوجی باقی رکھنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے یہ دعوی درحقیقت درست نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ رواں سال فروری میں اعلان کردہ200فوجیوں کو رکھنے کے منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور امریکی فوجیوں کو کم کرنے کے حوالے سے صدر کی ہدایت پر عمل درامد جاری رہے گا۔تاہم جنرل ڈینفور نے واضح کیا کہ امریکا ترکی کی جنرل اسٹاف کمیٹی کے ساتھ ایک تفصیلی عسکری منصوبہ بندی کا سلسلہ جاری رکھے گا تا کہ ترکی اور شام کی پوری سرحد پر انقرہ کے سکیورٹی خدشات سے نمٹا جا سکے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس دسمبر میں داعش تنظیم کے خلاف مکمل فتح کی نوید سناتے ہوئے شام کے شمال مشرقی حصے میں پھیلے دو ہزار امریکی فوجیوں کے مکمل اور حتمی انخلا کا اچانک اعلان کر دیا۔ اس اقدام نے وزیر دفاع جیم میٹس کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔البتہ کانگریس اور پینٹاگون کے دبا پر ٹرمپ نے اس علاقے میں 200 کے قریب امریکی فوجی باقی رکھنے کا فیصلہ کیا جہاں شامی حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔مذکورہ امریکی فوجیوں کو باقی رکھنے کا مقصد شامی کرد جنجگوں کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ یورپی ممالک کو اندیشہ ہے کہ اگر ترکی نے کرد جنگجوؤں(جن کو وہ دہشت گرد شمار کرتا ہے)کے خلاف عسکری آپریشن کیا تو یہ ممالک خود کو مشکل صورت حال میں پائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…