واشنگٹن (این این آئی)امریکا نے کہا ہے کہ شام میں قیام امن میں مدد دینے کے لیے وہ کچھ فوجیوں کو شام سے واپس نہیں بلائے گا۔ وائیٹ ہاؤس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شام سے انخلاء کے بعد بھی 200 فوجی وہاں موجود رہیں گے۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے ایک بیان میں کہا کہ شام میں فوج کا ایک چھوٹا سا گروپ موجود رہے گا۔ ان کی تعداد 200 ہوگی جو مزید کچھ عرصہ شام ہی میں قیام کریں گے۔ ترک خبر رساں ادارے اناطولیہ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ
صدر رجب طیب ایردوآن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیلیفون پر خطاب میں شام سے امریکی فوج کے انخلاء کو دونوں ملکوں کے مفاد میں قرار دینے پر اتفاق کیا ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں ملکوں کے صدور نے دو طرفہ دلچسپی کے امور اور انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان اقتصادی تعلقات کو بہتر بنانے پر بھی بات چیت کی گئی۔دوسری جانب وائیٹ ہاؤس کی طرف سے جاری ایک بیان میں صدر ٹرمپ اور طیب ایردوآن کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک بات چیت کی تصدیق کی گئی ہے۔