اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

آئرش پارلیمنٹ میں اسرائیلی اشیاء کی در آمدات پر پابندی کا بل منظور

datetime 26  جنوری‬‮  2019 |

ڈبلن (این این آئی)آئرلینڈ کے ایوان زیریں نے فلسطین میں قائم غیر قانونی اسرائیلی کارخانوں کی مصنوعات کی درآمد اور خدمات حاصل کرنے پر پابندی کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق آئرلینڈ کے ایوان زیریں میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ری پبلک پارٹی (فیانا فیل) کے سینیٹر نیال کولنز نے بل پیش کیا جس کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

آئرلینڈ کے ایوان زیریں میں اس بل کے حق میں 78 جبکہ مخالفت میں صرف 45 ووٹ پڑے۔قبل ازیں دسمبر میں آئرلینڈ کے ایوان بالا نے امریکا، یورپی طاقتوں اور اسرائیل کی مخالفت کے باوجود اس بل کے حق میں فیصلہ سنا دیا تھا۔ایوان بالا میں آزاد سینیٹر فرانسس بلیک نے بل پیش کیا تھا جس کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے میں تجاوزات کے حوالے سے اسرائیلی مصنوعات کی درآمد یا فروخت پر پابندی عائد کرنا تھا۔بل کی منظوری کے بعد سینیٹر فرانسس نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ آئرلینڈ ہمیشہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کے ساتھ کھڑا ہوگا اور ہم تاریخ رقم کرنے کے لیے ایک قدم کے فاصلے پر ہیں۔خیال رہے کہ یہ بل اب مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد قانون کی شکل اختیار کرلے گا جہاں اس کا جائزہ لیا جائے گا اور مناسب ترامیم کی جائیں گی، تاہم بل کو پارلیمنٹ میں موجود تمام اپوزیشن جماعتوں اور آزاد اراکین کی حمایت حاصل ہے۔اگر یہ بل قانون بن گیا تو آئرلینڈ، اسرائیل کے اقدامات کو جرائم قرار دینے والا یورپی یونین کا پہلا ملک ہوگا۔فلسطینی نیشنل انیشیٹو پارٹی کے سیکریٹری جنرل مصطفیٰ برغوتی کا کہنا تھا کہ بی ڈی ایس موومنٹ پر پابندیاں، سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی اور بائیکاٹ کے لیے یہ ایک عظیم فتح ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مستقبل قریب میں دیگر یورپی ممالک سے بھی اسی طرح کے بل کی منظوری کی توقع ہوگی۔بی ڈی ایس تحریک فلسطین میں اسرائیل کے غیرقانونی قبضے، سرحد پر دیوار کی تعمیر کے خلاف اور فلسطینیوں کو بھی اسرائیلی شہریوں کے برابر حقوق دینے اور فلسطین مہاجرین کے حقوق کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔بی ڈی ایس کی بنیاد 9 جولائی 2005 کو اس وقت رکھی گئی جب فلسطین کی سول سوسائٹی کے تقریباً 170 گروپوں نے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل کے مظالم کو اجاگر کیا تھا۔دوسری جانب

اسرائیل کے وزارت خارجہ نے آئرلینڈ کے سفیر الیسن کیلی سے ایوان سے بل کی منظوری پر شدید احتجاج کیا۔اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ آئرلینڈ کی جانب سے مشرق وسطیٰ کی واحد جمہوری ریاست کی مذمت کرنا شرم ناک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آئرلینڈ کی پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی پر اسرائیل شدید غم اور غصے میں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…