ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

میری کہانی دیکھ کر دیگر خواتین بھی سعودی عرب سے فرار ہوجائیں گی،کینیڈا میں پناہ حاصل کرنے والی سعودی لڑکی رھف محمد القنون کا انٹرویو ،افسوسناک انکشافات

datetime 15  جنوری‬‮  2019 |

ٹورانٹو (آئی این پی ) سعودی عرب سے فرار ہونے والی لڑکی نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کی کہانی سعودی عرب میں دیگر آزاد خیال خواتین کو بھی ملک سے فرار ہونے کے لیے متاثر کرے گی، سعودی عرب میں خواتین کے استحصال روکنے سے متعلق نظام موجود نہیں،ا خاندان مجھ سے کیسے لاتعلقی کا اعلان کر سکتا ہے؟ میں نے تو صرف آزاد رہنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، تاہم ان کے اس فیصلے سے مجھے بہت دکھ ہو ۔ کینیڈا میں پناہ حاصل کرنے والی سعودی لڑکی رھف محمد القنون نے

آسٹریلوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک سے فرار ہونا بین الاقوامی توجہ حاصل کرگیا جس کی وجہ سے ایک تبدیلی آئے گی۔رھف محمد القنون نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ خواتین کی ایک بڑی تعداد سعودی انتظامیہ سے بھاگ رہی ہے، چونکہ وہاں خواتین کے استحصال روکنے سے متعلق نظام موجود نہیں ہے اس لیے ان استحصال میں اضافہ بھی ہورہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ بڑی تعداد میں خواتین وہاں سے بھاگ جائیں گی، تاہم امید ہے کہ میری کہانی ان خواتین کو متاثر کرے گی اور وہ بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی آزادی حاصل کریں گی۔اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ میری کہانی سعودی عرب میں قانون کی تبدیلی کا ذریعہ بنے گی کیونکہ اس قانون کی حقیقت پہلے ہی دنیا کے سامنے ظاہر ہوچکی ہے۔کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں جب انہوں نے کینیڈین وزیرخارجہ کرسٹیہ فری لینڈ سے ملاقات کی تو اس وقت رھف محمد القنون کا کہنا تھا کہ مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ میں دوبارہ پیدا ہوگئی ہوں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بہت اچھا ہے، یہاں پر بہت پیار اور عزت ہے، یہاں ایک وزیر نے میرا استقبال کیا اور یقین دلایا کہ میں یہاں بالکل محفوظ ہوں اور یہاں مجھے تمام حقوق حاصل ہیں۔اپنے انٹرویو کے دوران رھف محمد القنون کا کہنا تھا کہ اسے یہ خبر سن کر بہت دکھ ہوا کہ میرے خاندان نے ایک بیان جاری کیا ہے اور

اس میں مجھ سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔اس نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میرا خاندان مجھ سے کیسے لاتعلقی کا اعلان کر سکتا ہے؟ میں نے تو صرف آزاد رہنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، تاہم ان کے اس فیصلے سے مجھے بہت دکھ ہوا۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ انہوں نے اپنا ملک کیوں چھوڑا تو اس کا کہنا تھا کہ میں ظلم اور جبر سے آزاد ہونا چاہتی تھی، مجھے وہاں اپنی مرضی کا کام کرنے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی میں اس جگہ پر ایسے شخص سے شادی تک نہیں کرسکتی جس سے میں چاہتی ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…