ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

وائٹ ہاؤس میں ذاتی نوعیت کے اخراجات جیب سے کرتے تھے : مشال اوبامہ

datetime 14  دسمبر‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی )سابق امریکی خاتون اول مشال اوبامہ نے بتا یا ہے کہ وائٹ ہاوس میں ذاتی نوعیت کے تمام اخراجات ہمیں اپنی جیب سے کرنے ہوتے تھے ،ہم اپنے مہمانوں پر آنے والے اخراجات کا بل خود دیتے تھے ،حتیٰ کہ وائٹ ہاوس کا سٹاف مونگ پھلی کے دانے بھی گن کر پیسے وصول کرتا تھا۔

اپنے ایک انٹر ویومیں انہوں نے بتا یا کہ وائٹ ہاوس کے سٹاف نے ہمیں کہا کہ آپ کچھ بھی آرڈر کر کے حاصل کر سکتے ہیں لیکن میں باراک اوبامہ کو کہا کرتی تھی کہ انہیں کبھی نہ کہنا کہ تمہیں کچھ چاہیے کیو نکہ پھر ہمیں پیسے ادا کرنے پڑیں گے ۔ایک بار باراک اوبامہ نے مچھلی کھائی جو انہیں بہت مزے کی لگی لیکن جب مہینے کے آخر میں ہمارے پاس بل آیاتودیکھا یہ مچھلی چین کی تھی تو باراک اوبامہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ مچھلی اتنی بھی اچھی نہیں تھی ۔مشال اوبامہ نے کہا کہ بعض امریکی سوچتے ہیں کہ وائٹ ہاوس ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے چلتا ہے لیکن ہمیں وائٹ ہاوس میں ذاتی نوعیت کی ہر چیز کے لیے بلوں کی ادائیگی کرنا ہوتی ہے ،کھانے کی ہر چیز کے لیے پیسے ادا کرنے پڑتے تھے ، وائٹ ہاوس کا سٹاف مونگ پھلی کے دانے بھی گن کر پیسے وصول کرتا تھا اور مہینے کے آخر میں اس کا بھی بل آتا تھا ۔انہوں نے کہا کہ میں کوئی شکایت نہیں کررہی لیکن یہ بات بہت سے امریکی لوگوں کو سمجھ نہیں آتی ۔وائٹ ہاوس میں جو بھی لوگ ہمیں ملنے آتے تھے ان کے کھانے پینے کے اخراجات ہم خود برداشت کرنے پڑتے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاوس اپنے گھر کی طرح لگتا تھا ،کوئی بھی مکان گھر اس وقت بنتا ہے جب آپ اس میں کچھ لے کر جاتے ہیں ۔مشال اوبامہ نے کہا کہ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ کو وائٹ ہاوس یاد آتا ہے تو میں جواب دیتی ہوں کہ مجھے وائٹ ہاوس یاد نہیں آتا کیونکہ اس گھر میں ہمارے لیے جو اہم باتیں تھیں وہ سب ہم اپنے ساتھ لے کر گئے اور وہ باتیں ابھی بھی ہمارے پاس ہیں جن میں خاندان ،اقدار ،دوستی شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاوس بہت خوبصورت اور تاریخی ہے ،وہاں پر رہنا عزت و احترام کی بات ہے لیکن لوگ ہی اسے ایسا عزت دار گھر بناتے ہیں جیسا وہ ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…