اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

وائٹ ہاؤس میں ذاتی نوعیت کے اخراجات جیب سے کرتے تھے : مشال اوبامہ

datetime 14  دسمبر‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی )سابق امریکی خاتون اول مشال اوبامہ نے بتا یا ہے کہ وائٹ ہاوس میں ذاتی نوعیت کے تمام اخراجات ہمیں اپنی جیب سے کرنے ہوتے تھے ،ہم اپنے مہمانوں پر آنے والے اخراجات کا بل خود دیتے تھے ،حتیٰ کہ وائٹ ہاوس کا سٹاف مونگ پھلی کے دانے بھی گن کر پیسے وصول کرتا تھا۔

اپنے ایک انٹر ویومیں انہوں نے بتا یا کہ وائٹ ہاوس کے سٹاف نے ہمیں کہا کہ آپ کچھ بھی آرڈر کر کے حاصل کر سکتے ہیں لیکن میں باراک اوبامہ کو کہا کرتی تھی کہ انہیں کبھی نہ کہنا کہ تمہیں کچھ چاہیے کیو نکہ پھر ہمیں پیسے ادا کرنے پڑیں گے ۔ایک بار باراک اوبامہ نے مچھلی کھائی جو انہیں بہت مزے کی لگی لیکن جب مہینے کے آخر میں ہمارے پاس بل آیاتودیکھا یہ مچھلی چین کی تھی تو باراک اوبامہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ مچھلی اتنی بھی اچھی نہیں تھی ۔مشال اوبامہ نے کہا کہ بعض امریکی سوچتے ہیں کہ وائٹ ہاوس ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے چلتا ہے لیکن ہمیں وائٹ ہاوس میں ذاتی نوعیت کی ہر چیز کے لیے بلوں کی ادائیگی کرنا ہوتی ہے ،کھانے کی ہر چیز کے لیے پیسے ادا کرنے پڑتے تھے ، وائٹ ہاوس کا سٹاف مونگ پھلی کے دانے بھی گن کر پیسے وصول کرتا تھا اور مہینے کے آخر میں اس کا بھی بل آتا تھا ۔انہوں نے کہا کہ میں کوئی شکایت نہیں کررہی لیکن یہ بات بہت سے امریکی لوگوں کو سمجھ نہیں آتی ۔وائٹ ہاوس میں جو بھی لوگ ہمیں ملنے آتے تھے ان کے کھانے پینے کے اخراجات ہم خود برداشت کرنے پڑتے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاوس اپنے گھر کی طرح لگتا تھا ،کوئی بھی مکان گھر اس وقت بنتا ہے جب آپ اس میں کچھ لے کر جاتے ہیں ۔مشال اوبامہ نے کہا کہ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ کو وائٹ ہاوس یاد آتا ہے تو میں جواب دیتی ہوں کہ مجھے وائٹ ہاوس یاد نہیں آتا کیونکہ اس گھر میں ہمارے لیے جو اہم باتیں تھیں وہ سب ہم اپنے ساتھ لے کر گئے اور وہ باتیں ابھی بھی ہمارے پاس ہیں جن میں خاندان ،اقدار ،دوستی شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاوس بہت خوبصورت اور تاریخی ہے ،وہاں پر رہنا عزت و احترام کی بات ہے لیکن لوگ ہی اسے ایسا عزت دار گھر بناتے ہیں جیسا وہ ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…