جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

حوثی جنگ زدہ 90 لاکھ شہریوں کو امداد سے محروم کرنے کا موجب بنے،اقوام متحدہ

datetime 4  اکتوبر‬‮  2018 |

صنعاء(انٹرنیشنل ڈیسک )یمن میں خانہ جنگی کے آغاز سے اب تک لاکھوں افراد غربت کا شکار ہوئے۔ دوسری جانب ایران نواز حوثی ملیشیا کی وجہ سے ایک کروڑ کے قریب شہری امداد سے محروم رہے۔عرب ٹی وی کے مطابق یمن میں خانہ جنگی کے بعد عالمی بنک کی جانب سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف کے تعاون سے غریب اور نادار شہریوں میں 10 کروڑ 50

لاکھ ڈالرکی امداد مہیاکی گئی۔نقدی، اجناس، خوراک اور ادویات کی شکل میں فراہم کی جانے والی اس امداد کی تقسیم کے لیے یونیسیف کو یمن کے شہروں میں امدادی مراکزکے قیام کی اشد ضرورت ہے مگر حوثی ملیشیا لوٹ مار کے چکروں میں عالمی ادارے کے ساتھ تعاون کے بجائے امداد ہڑپ کرنے کی کوششیں کررہی ہے۔ جن علاقوں میں حوثیوں کا انتظامی اور سیکیورٹی کنٹرول قائم ہے وہاں ’یونیسیف’ کو امدادی مراکز کے قیام میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔عالمی امدادی ادارے کا خیال تھا کہ عالمی بنک کی طرف سے دی جانے والی گرانٹ ایک تہائی یمنی آبادی کی غربت کے باعث یقینی موت سے نجات کا موجب بنے گی، مگر اگست 2017ء کے بعد یہ تیسرا موقع ہے کہ یونیسیف کو اپنے امدادی مشن میں سخت مشکلات درپیش ہیں۔ حوثیوں کی طرف سے امداد کی تقسیم کے لیے نہ صرف مراکز کے قیام کی اجازت نہیں دی جا رہی بلکہ امدادی سامان کی لوٹ مار جاری ہے۔ ایک اندازے کے مطابق حوثی ملیشیا کی کارروائیوں اور رکاوٹوں کی وجہ سے 90 لاکھ افراد امداد سے محروم رہے ہیں۔یہ رکاوٹیں ایک ایسے وقت میں کھڑی کی جا رہی ہیں جب جنگ کی وجہ سے یمن میں مہنگائی عروج پر ہے، ایندھن، خوراک اور دیگر بنیادی نوعیت کی اشیاء کے نرخ کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ ادویات ناپید اور قومی کرنسی گراوٹ کا شکار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…