جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

انسان تھے یا کوئی جن بھوت! 8افراد کیلئے 72لاکھ میں ایک وقت کا کھانا،مشروبات کا بل 86لاکھ ،کیا انہیں مگرمچھ کی دم کا سوپ بھی پیش کیا گیا؟ریسٹورنٹ مالک کا حیران کن انکشاف

datetime 26  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)دبئی کے ایک شہزادے نے شاہ خرچی کی انتہا کردی۔ شنگھائی میں اپنے 8 جاننے والوں کو کھانا کھلانے پر 4 لاکھ یوان (تقریباً 72 لاکھ پاکستانی روپے) خرچ کر دئیے۔ تفصیلات کے مطابق چینی سوشل میڈیا پر ایک بل کی فوٹو گردش کر رہی ہے۔ بل میں کھانے کی 20 ڈشوں کا بل 4 لاکھ یوان دکھایا گیا ہے۔

یہ بل شنگھائی کے چانگنگ ضلع کے ایک ریسٹورنٹ کا ہے۔یہ بل دبئی کے ایک شہزادے کی طرف سے اپنے چینی دوستوں کے لیے دی جانے والی دعوت کا  ہے۔ ریسٹورنٹ کے مالک نےشہزادے کی شناخت ظاہر کیے بغیر بتایا کہ اس بل میں کھانے میں شامل کی جانے والے ان خصوصی اجزا کا بھی ذکر ہے، جنہیں ساری دنیا سے جمع کیا گیا۔ ان اجزا کو کھانے میں شامل کیے جانے کی ہدایات کھانے سے پہلے دی گئی تھی۔ریسٹورنٹ کے مالک نے بتایا کہ دبئی کے معیار کے مطابق یہ بل زیادہ نہیں۔بیجنگ نیوز کے مطابق اس کھانے سے ہٹ کر وہاں موجود لوگوں کے لیے 4 لاکھ 80 یوان یا تقریباً 86 لاکھ روپے کے مشروبات بھی پیش کیے گئے تھے۔8 افراد کے کھانے کا اصل بل 418,245 یوان تھا، شہزادے نے رعایت کے بعد 4 لاکھ یوان ادا کیے۔ ریسٹورنٹ کے مالک نے بتایا کہ کھانا بناتے ہوئے سرکاری قوانین کا خیال رکھا گیا تھا، کھانے کے اجزا میں کوئی ایسا جانور نہیں تھا، جس کے شکار پر حکومت نے پابندی لگائی ہو۔ریسٹورنٹ کے مالک سے جب کھانے کے بل میں شامل مگرمچھ کی دم کے سوپ کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو انہوں نے بتایا کہ مگرمچھ کے شکار پر پابندی نہیں۔ چین میں اس کی فارمنگ ہوتی ہے۔چانگنگ ڈسٹرکٹ مارکیٹ سپرویژن بیورو اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہے۔ریسٹورنٹ میں بھی معمول کے مطابق  کام جاری ہے ۔سوشل میڈیا پر اس خبر پر ملا جلا ردعمل سامنے آرہا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…