جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

رفیق حریری کے قاتل کے نام سے لبنان کے دارلحکومت بیروت میں سڑک منسوب

datetime 19  ستمبر‬‮  2018 |

بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک)لبنانی وزیراعظم سعد حریری نے اپنے مقتول والد اور سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قاتل کے نام بیروت کی ایک سڑک منسوب کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک نیا فتنہ قرار دیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق اپنے ایک بیان میں سعد حریری نے کہا کہ رفیق حریری کے قاتل مصطفیٰ بدرالدین کو عزت توقیر دینا اور سڑکوں کو اس کے نام منسوب کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔

ٹوئٹر پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بعض لوگ لبنان کو کسی اور جگہ لے جانا چاہتے ہیں۔ انہیں لبنانی عوام اور اللہ کے سامنے اپنی ذمہ داری کا جواب دینا ہو گا۔سعد حریری کا کہنا تھا کہ ہم ملک میں فتنہ و فساد ختم کرنا چاہتے ہیں مگر بعض لوگ اس فساد کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ مصطفیٰ بدرالدین بہ ذات خود ایک فتنہ ہے۔خیال رہے کہ لبنان میں عوامی حلقے پیر کے روز اْس وقت حیران ہو گئے جب دارالحکومت بیروت کے علاقے الغبیری میں ایک سڑک پر مصطفی بدرالدین کے نام کی تختی نظر آئی۔ بدرالدین کو لبنان کی خصوصی عدالت سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کے جرم کا ماسٹر مائنڈ قرار دے چکی ہے۔ رفیق حریری 14 فروری 2005ء کو بیروت میں ایک بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔الغبیری کی بلدیہ کی جانب سے اس موقع پر مذکورہ اقدام کو بعض لبنانیوں بالخصوص وزیراعظم سعد حریری کے حامیوں کی جانب سے اشتعال انگیز قرار دیا جا رہا ہے۔ اس لیے کہ ہالینڈ کے شہر ہیگ میں جرائم کی بین الاقوامی عدالت ان دنوں رفیق حریری قتل سے متعلق مقدمے کی اختتامی کارروائیاں عمل میں لا رہی ہے۔ادھر نگراں حکومت میں لبنانی وزیر داخلہ و بلدیات نہاد المشنوق ایسے کسی بھی فیصلے پر دستخط کرنے کی تردید کی جس میں الغبیری کی بلدیہ کو مصطفی بدرالدین کے نام سے سڑک موسوم کرنے کی اجازت دی گئی۔ لبنانی وزارت داخلہ نے اعلان کیا کہ وہ الغبیری کی بلدیہ کو ارسال کی جانے والی ایک تحریر میں سڑک پر مذکورہ نام کے بورڈز کو ہٹانے کا مطالبہ کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…