ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

رفیق حریری کے قاتل کے نام سے لبنان کے دارلحکومت بیروت میں سڑک منسوب

datetime 19  ستمبر‬‮  2018 |

بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک)لبنانی وزیراعظم سعد حریری نے اپنے مقتول والد اور سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قاتل کے نام بیروت کی ایک سڑک منسوب کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک نیا فتنہ قرار دیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق اپنے ایک بیان میں سعد حریری نے کہا کہ رفیق حریری کے قاتل مصطفیٰ بدرالدین کو عزت توقیر دینا اور سڑکوں کو اس کے نام منسوب کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔

ٹوئٹر پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بعض لوگ لبنان کو کسی اور جگہ لے جانا چاہتے ہیں۔ انہیں لبنانی عوام اور اللہ کے سامنے اپنی ذمہ داری کا جواب دینا ہو گا۔سعد حریری کا کہنا تھا کہ ہم ملک میں فتنہ و فساد ختم کرنا چاہتے ہیں مگر بعض لوگ اس فساد کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ مصطفیٰ بدرالدین بہ ذات خود ایک فتنہ ہے۔خیال رہے کہ لبنان میں عوامی حلقے پیر کے روز اْس وقت حیران ہو گئے جب دارالحکومت بیروت کے علاقے الغبیری میں ایک سڑک پر مصطفی بدرالدین کے نام کی تختی نظر آئی۔ بدرالدین کو لبنان کی خصوصی عدالت سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کے جرم کا ماسٹر مائنڈ قرار دے چکی ہے۔ رفیق حریری 14 فروری 2005ء کو بیروت میں ایک بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔الغبیری کی بلدیہ کی جانب سے اس موقع پر مذکورہ اقدام کو بعض لبنانیوں بالخصوص وزیراعظم سعد حریری کے حامیوں کی جانب سے اشتعال انگیز قرار دیا جا رہا ہے۔ اس لیے کہ ہالینڈ کے شہر ہیگ میں جرائم کی بین الاقوامی عدالت ان دنوں رفیق حریری قتل سے متعلق مقدمے کی اختتامی کارروائیاں عمل میں لا رہی ہے۔ادھر نگراں حکومت میں لبنانی وزیر داخلہ و بلدیات نہاد المشنوق ایسے کسی بھی فیصلے پر دستخط کرنے کی تردید کی جس میں الغبیری کی بلدیہ کو مصطفی بدرالدین کے نام سے سڑک موسوم کرنے کی اجازت دی گئی۔ لبنانی وزارت داخلہ نے اعلان کیا کہ وہ الغبیری کی بلدیہ کو ارسال کی جانے والی ایک تحریر میں سڑک پر مذکورہ نام کے بورڈز کو ہٹانے کا مطالبہ کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…