ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

حوثیوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے الحدیدہ کی آزادی ناگزیر ہے: متحدہ عرب امارات

datetime 16  ستمبر‬‮  2018 |

نیویارک(انٹرنیشنل ڈیسک)متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے ساحلی شہر الحدیدہ کی آزادی ناگزیر ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات کی اقوام متحدہ میں مستقل مندوب لانا زکی نسیبہ نے سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط لکھا ہے اور اس میں حوثی وفد کے گذشتہ ہفتے جنیوا میں

امن مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کے مضمرات کا ذکر کیا ہے۔انھوں نے اس خط میں لکھا کہ حوثیوں کی جنیوا مذاکرات میں عدم شرکت دراصل اقوام متحدہ کو کسی خاطر میں نہ لانے اور بامقصد سیاسی عمل کو درخور اعتناء نہ سمجھنے کے رویے کی عکاس ہے۔ان کے اس طرزِ عمل سے بحران کے خاتمے کے خواہاں یمنی عوام اور عرب اتحاد کو بھی مایوسی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے یہ حوثیوں کے 2014ء سے سیاسی عمل میں عدم شرکت ، سیاسی عمل کو سبوتاڑ کرنے اور وعدے توڑنے ہی کا تسلسل ہے جس سے یمن آج سیاسی اور انسانی بحران سے دوچار ہے۔لانا زکی نے لکھا کہ عرب اتحاد کے نقطہ نظر سے فوجی کارروائی مسئلے کا آخری حل ہے لیکن حوثیوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے حدیدہ کی آزادی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔اس مقصد کے لیے یمنی فوج نے عرب اتحاد کی مدد سے حدیدہ اور دوسرے علاقوں کی حوثیوں کے قبضے سے آزادی کے لیے کارروائی کو تیز کردیا ہے۔امارات کی سفیر نے سلامتی کونسل سے بھی اس مقصد کے لیے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیااورکہاکہ سلامتی کونسل اور عالمی برادری کو بھی حوثیوں پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔اس دباؤ کا آغاز فوری طور پرایران کی جانب سے حوثیوں کو مہیا کیے جانے والے ہتھیاروں ، رقوم اور ٹیکنیکل امداد کی بندش سے ہونا چاہیے۔انھیں ایران سلامتی کونسل کی قراردادوں 2216 اور 2231 کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ تمام امداد مہیا کررہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…