جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

حوثیوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے الحدیدہ کی آزادی ناگزیر ہے: متحدہ عرب امارات

datetime 16  ستمبر‬‮  2018 |

نیویارک(انٹرنیشنل ڈیسک)متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے ساحلی شہر الحدیدہ کی آزادی ناگزیر ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات کی اقوام متحدہ میں مستقل مندوب لانا زکی نسیبہ نے سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط لکھا ہے اور اس میں حوثی وفد کے گذشتہ ہفتے جنیوا میں

امن مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کے مضمرات کا ذکر کیا ہے۔انھوں نے اس خط میں لکھا کہ حوثیوں کی جنیوا مذاکرات میں عدم شرکت دراصل اقوام متحدہ کو کسی خاطر میں نہ لانے اور بامقصد سیاسی عمل کو درخور اعتناء نہ سمجھنے کے رویے کی عکاس ہے۔ان کے اس طرزِ عمل سے بحران کے خاتمے کے خواہاں یمنی عوام اور عرب اتحاد کو بھی مایوسی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے یہ حوثیوں کے 2014ء سے سیاسی عمل میں عدم شرکت ، سیاسی عمل کو سبوتاڑ کرنے اور وعدے توڑنے ہی کا تسلسل ہے جس سے یمن آج سیاسی اور انسانی بحران سے دوچار ہے۔لانا زکی نے لکھا کہ عرب اتحاد کے نقطہ نظر سے فوجی کارروائی مسئلے کا آخری حل ہے لیکن حوثیوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے حدیدہ کی آزادی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔اس مقصد کے لیے یمنی فوج نے عرب اتحاد کی مدد سے حدیدہ اور دوسرے علاقوں کی حوثیوں کے قبضے سے آزادی کے لیے کارروائی کو تیز کردیا ہے۔امارات کی سفیر نے سلامتی کونسل سے بھی اس مقصد کے لیے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیااورکہاکہ سلامتی کونسل اور عالمی برادری کو بھی حوثیوں پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔اس دباؤ کا آغاز فوری طور پرایران کی جانب سے حوثیوں کو مہیا کیے جانے والے ہتھیاروں ، رقوم اور ٹیکنیکل امداد کی بندش سے ہونا چاہیے۔انھیں ایران سلامتی کونسل کی قراردادوں 2216 اور 2231 کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ تمام امداد مہیا کررہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…