جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

’’کرتارپور سرحد کھولنے کی پیشکش‘‘بھارتی کرکٹر سدھو جھوٹ بول رہے ہیں، اس حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی، بھارتی وزیر نے بڑا قدم اُٹھالیا

datetime 14  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور( این این آئی )پاکستان کی طرف سے کرتارپورکوریڈورکھولنے کی پیشکش پر بھارتی سیاستدانوں کو ابھی تک یقین نہیں آرہا ہے ، بھارت کی ایک سینئروزیرنے پاکستانی حکومت کی طرف سے کرتارپورکوریڈورکھولنے جانے کے عندیے کے حوالے سے تصدیق کیلئے بھارتی وزیرخارجہ کوباضابطہ طور پر خط ارسال کر دیا۔

بھارت کی یونین منسٹربرائے فوڈٹیکنالوجی اورپرکاش سنگھ بادل کی بہو ہرسمرت کوربادل نے بھارتی وزیرخارجہ شمساسوراج کوخط میں ان خدشات کا اظہارکیا ہے کہ شاید پاکستان کی کسی شخصیت نے بھارتی سابق کرکٹرنوجوت سنگھ سدھو سے کرتارپورکوریڈورکھولنے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی ہے اور نوجوت سنگھ سدھو اس حوالے سے غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔ہرسمرت کورنے خط میں لکھا ہے کہ شرومنی اکالی دل اورسردارپرکاش سنگھ بادل کئی برسوں سے ڈیرہ بابا نانک سے گوردوارہ دربارصاحب کرتارپورکا کوریڈورکھولے جانے کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں تاکہ بھارت میں بسنے والے لاکھوں سکھ یہاں سے دربارصاحب کے درشن کرسکیں ، تاہم کئی برسوں سے ا س مطالبے کوسردخانے میں رکھا گیا ہے ، سکھوں کی کئی تنظیمیں اوروفودبھی یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں ۔ شرومنی اکالی دل نے 2010 میں اسمبلی میں یہ قراردادبھی پاس کروائی تھی کہ یہ راستہ کھولاجائے اس حوالے سے پاکستان سے مذاکرات کئے جائیں تاہم اس حوالے سے کوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی تھی ۔تاہم اب جب پنجاب کے سینئروزیرنوجوت سنگھ سدھونے پاکستان کا دورہ کیا اوروہ واپس آئے توانہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت اور پاک فوج کے سربراہ نے انہیں عندیہ دیا ہے کہ گورونانک دیو جی کے 550 ویں جنم دن کے موقع پر کوریڈورکھولنے کوتیارہیں۔ خط میں انہوں وزیرخارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات کی سرکاری طورپرتصدیق کریں کہ کیا پاکستان کی حکومت نے ایسی کوئی یقین دہانی کروائی ہے اور یہ بھی بتایا جائے کہ اگرپاکستان کی طرف سے یہ پیشکش کی گئی ہے توبھارتی حکومت کا اس حوالے سے کیا موقف ہے ۔انہوں نے وزرات خارجہ سے یہ اپیل بھی کی ہے کہ پاکستان سے اس معاملے پرمذاکرات کئے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…