جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

پاکستان سے اختلافات کا بھیانک نتیجہ’’رواں برس افغانستان، شام سے بھی بدتر ہو سکتا ہے‘‘ امریکی تجزیہ کارنے خطرناک پیش گوئی کردی، امریکہ اوراتحادیوں کیلئے نیا مسئلہ کھڑا ہوگیا

datetime 14  ستمبر‬‮  2018 |

کابل(این این آئی)امریکی انسٹیٹیوٹ برائے امن اور دوسرے تجزیاتی اداروں نے کہاہے کہ افغانستان اورامریکہ کی کوشش ہے کہ افغانستان میں پرتشدد حالات کو قابو میں لایا جائے۔ اس کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی انسٹیٹیوٹ برائے امن اور دوسرے تجزیاتی اداروں نے 2018 کے دوران افغان تنازعے کی شدت شام کے جنگی حالات سے زیادہ ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

رواں برس کو افغانستان کے لیے انتہائی خوفناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ سترہ سالہ تنازعے میں پرتشدد واقعات شدید تر ہو گئے ۔امریکی انسٹیٹیوٹ برائے امن کے افغان امور کے تجزیہ کار جونی والش کا کہنا تھا کہ افغان تنازعے کے سبھی سال خوفناکی سے عبارت ہیں لیکن سن 2018 سب سے شدید ہے۔ والش کے مطابق افغانستان میں جس رفتار سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، اْس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے خونی تنازعہ بن جائے گا۔انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے مطابق ایسا امکان ہے کہ رواں برس افغانستان میں ہونے والی ہلاکتیں بیس ہزار سے تجاوز کر سکتی ہیں۔ اس بین الاقوامی گروپ کے تجزیہ کار گریم اسمتھر نے کہا کہ رواں برس کے دوران افغان تنازعے میں ہلاکتیں ایک نئی حد کو چھو سکتی ہیں اور مجموعی ہلاکتوں کی تعداد میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہو سکتے ہیں اور یہ انتہائی افسوسناک پہلو ہے۔گزشتہ برس افغانستان میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے انیس ہزار سے زائد تھی۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس افغانستان میں ابتدائی چھ ماہ کے دوران تقریباً سترہ سو عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کے مطابق ہر ہفتے کے دوران تین سو سے چار سو کے دوران عسکریت پسندوں کی ہلاکت ہو رہی ہے لیکن انہوں نے حکومتی فوج کے ہلاک شدگان کی تعداد بارے کچھ نہیں کہا۔

ماہرین کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی بھی سابقہ صدور کی پالیسیوں کی طرح کسی بڑی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو رہی۔ تاہم افغانستان میں امریکی فوج کے واپس طلب کیے گئے کمانڈر جنرل جان نکلسن کا خیال ہے کہ ٹرمپ پالیسی کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔افغان جنگی حالات میں پاکستان کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی بازگشت مسلسل سنی جا رہی ہے۔ ریٹائر افغان جنرل عتیق اللہ امرخیل کا کہنا تھا کہ جب تک امریکا اپنے اتحادی پاکستان کو کنٹرول نہیں کرتا تب تک طالبان کا مقابلہ کرنا مشکل ہو گا۔ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسٹریٹیجیک پالیسی بھی اسی تناظر میں مرتب تو کی گئی ہے لیکن اْس کے ثمرات ابھی آنے باقی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…