جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی حکومت کا جھوٹ پکڑا گیا،اپنی عوام کو پچھلے 17سال سے اب تک کس طرح بیوقوف بنایا جارہا ہے؟نیویارک ٹائمز کا سنسنی خیز انکشاف

datetime 9  ستمبر‬‮  2018 |

واشنگٹن(آن لائن ) امریکی جریدے نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی حکومت افغانستان میں اپنی 17 برس جنگ کے حق میں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے مسلسل ناقص اعدادوشمار پیش کررہی ہے۔رپورٹ کے مطابق نیویارک ٹائمز کی اپنی تحقیق اور امریکی حکومت کو عالمی ایڈ ایجنسیوں سے ملنے والے اعداد وشمار سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن اپنی عوام کو افغانستان کے حالات سے متعلق سچ بتانا نہیں چاہتا۔

امریکی حکومت کہتی ہے کہ طالبان کو افغانستان کے 44 فیصد اضلاع میں کنٹرول حاصل ہے جبکہ نیویارک ٹائمز کا دعویٰ ہے کہ جنگجوؤں کو دراصل 61 فیصد علاقے میں مکمل اثر ورسوخ حاصل ہے۔واضح رہے کہ اکتوبر 2001 میں امریکی آمد کے بعد سے 2017 کے بعد طالبان کو افغان علاقوں میں سب سے زیادہ کنٹرول حاصل ہوا۔رپورٹ کے مطابق تقریباً 2 ہزار 200 امریکی افغان جنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں اور واشنگٹن 40 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم لگا چکا ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ’افغان جنگ مہنگی ترین جنگ ثابت ہورہی ہے، موجودہ لگنے والی رقم مارشل پلان سے زیادہ جس کے تحت جنگ عظیم دوم کے بعد یورپ کو ازسرنو تعمیر کرنے کے لیے درکار تھی۔نیویار ک ٹائمز کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے افغان جنگ میں اتنی بڑی رقم لگانے کے بعد امریکی عوام کا دباؤ کم کرنے کے لیے ظاہر کیا گیا کہ افغانستان میں طالبان کا زور ٹوٹ رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ افغان حکومت ملک کے 56 فیصد حصے پر ’اثر ورسوخ یا کنٹرول‘ رکھتی ہے۔دوسری جانب نیویارک ٹائمز کا دعویٰ ہے کہ متعدد اضلاع میں افغان حکومت صرف ضلعی ہیڈ کواٹر اور ملٹری بیس پر کنٹرول رکھتی ہے جبکہ طالبان دیگر انصرام سنبھالتے ہیں۔اسی طرح کاغذات میں طالبان کے مقابلے میں افغان سیکیورٹی فورسز کی تعداد 10 بتائی گئی لیکن ایک تھائی سے زیادہ فوجی اور پولیس افسران گھوسٹ ہیں، وہ چھوڑ چکے ہیں یا بھی انہیں پے رول سے نکال دیا گیا۔علاوہ ازیں دیگر کی ٹریننگ اہلیت اور قابلیت ناقص ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…