جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ایران، امریکا محاذ آرائی سوشل میڈیا پر منتقل،خامنہ ای اور پومپیو کی ٹوئٹر پر لفظی جنگ

datetime 9  ستمبر‬‮  2018 |

تہران(انٹرنیشنل ڈیسک)ایران اور امریکا کے درمیان جاری روایتی محاذ آرائی سوشل میڈیا پر منتقل ہوگئی ۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو کے درمیان مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ٹوئٹر پر ایک دوسرے پر الزامات کا تبادلہ ہوا۔ دونوں نے دعویٰ کیا کہ وہ فلسطینیوں کے بہی خواہ ہیں اور سب سے زیادہ امداد فراہم کرتے ہیں جب کہ دونوں نے ایک دوسرے پر

فلسطینیوں کو نظرانداز کرنے کا بھی الزام عاید کیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پہلے ٹوئٹر پر لفظی جنگ ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای اور مائیک پومپیو کے درمیان تھی۔ بعد ازاں اس میں ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف بھی شامل ہوگئے۔خامنہ ای نے کہا کہ انہوں نے روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنے پر ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی خدمات کو سراہا۔ ساتھ ہی انہوں ںے لکھا کہ ایران نے ہمیشہ قضیہ فلسطین کو غیرمعمولی اہمیت دی ہے، حالانکہ مسئلہ فلسطین ایران کے لیے اول درجے کا نہیں بلکہ دوسرے درجے کا اہم مسئلہ ہے۔اس پر مائیک پومپیو نے ٹویٹ کی کہ آیت اللہ خامنہ ای کہہ رہے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ سنہ 1994ء کے بعد امریکا نے فلسطینیوں کو 6 ارب 30 کروڑ ڈالر کی امداد فراہم کی جب کہ ایران کی کرپٹ حکومت نے دہشت گردوں کو کروڑوں ڈالر دیے جس کے نتیجے میں فلسطینی قوم کی زندگی اور معیشت دونوں خطرے میں پڑ گئیں۔امریکی وزیر خارجہ نے ایران کو یاد دلایا کہ تہران نے 2008ء سے 2017ء تک فلسطینی پناہ گزینوں کو صرف 20 ہزار ڈالر کی امداد دی۔سپریم لیڈر اور مائیک پومپیو کے درمیان جاری لفظی جنگ میں ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف بھی شامل ہوگئے۔ ایک ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے بدلتے اقدامات اور فیصلے مضحکہ خیز ہیں۔ ایک طرف امریکا کہتا ہے کہ ہم بیرون ملک کوئی رقم خرچ نہیں کرتے اور ساتھ یہ کہتا ہے کہ ہم فلسطینیوں کو بھاری رقم ادا کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…