جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

اردن،فلسطین کنفیڈریشن کے حوالے سے فلسطین کا سرکاری موقف کیا ہے؟

datetime 3  ستمبر‬‮  2018 |

عمان/مقبوضہ بیت المقدس(انٹرنیشنل ڈیسک)فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کا ایک متنازع بیان ان دنوں ذرائع ابلاغ میں موضوع بحث ہے۔ اس بیان میں وہ ایک اسرائیلی صحافیہ کو کہہ رہے ہیں کہ اْنہیں اردن کے ساتھ کنفیڈریشن کے قیام کی تجویز پیش کی گئی ہے۔صدر عباس کے اس بیان کے بعد فلسطینی اتھارٹی کا سرکاری رد عمل معلوم کرنے کے لیے عرب ٹی وی نے فلسطینی ایوان صدر سے رابطہ کیا۔

ایوان صدر کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے کہا کہ کنفیڈریشن میکینزم 1984ء سے فلسطینی قیادت کے ایجنڈے پر ہے۔ اس وقت سے آج تک ہمارا یہ اصولی موقف رہا ہے کہ دو ریاستی حل اردن سے خصوصی تعلقات کا دروازہ بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کنفیڈریشن کیقیام کا فیصلہ فرد واحد یا کوئی ایک گروپ نہیں کرے گا بلکہ یہ دونوں قوموں کا مشترکہ فیصلہ ہوگا۔خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیل کے ایک وفد نے رام اللہ میں صدر محمود عباس سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد صدر عباس کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکی صدر نے ان کے سامنے اردن کے ساتھ الحاق کی تجویز پیش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے امریکی صدر کو کہا تھا کہ اگر اسرائیل بھی اس کنفیڈریشن کا حصہ بنتا ہے تو وہ اس تجویز کو قبول کرنے کو تیار ہیں۔دوسری جانب اردن نے فلسطین، اردن کنفیڈریشن کی تجویز کو مسترد کردیا ۔ اردنی حکومت کی خاتون ترجمان جمانہ غنیمات نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کنفیڈریشن کی تجویز ناقابل بحث موضوع ہے۔ فلسطین کے حوالے سے اردن کا موقف واضح ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ فلسطین کو بھی ایک آزاد ریاست تسلیم کیا جائے۔ اسرائیل 1967ء کی جنگ سے قبل والی پوزیشن پر واپس جائے اور مشرقی بیت المقدس کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…