جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں پاکستانی حجاج کرام افسوسناک سلوک کا نشانہ بن گئے، وزارت مذہبی امور نے بھی آنکھیں پھیر لیں،تشویشناک انکشافات

datetime 26  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی )منی میں ناقص غذا اور گندہ پانی ملنے پرپاکستانی حضاج کرام کا سخت احتجاج ، وزارت مذہبی امور نے دیار غیر میں پاکستانی حاجیوں سے آنکھیں پھیر لیں ۔سعودی وزیر مذہبی امور طفل تسلیاں دے کر چلے گے تفصیلات کے مطابق پاکستانی حجاج کرام منی میں بیمار پڑنے لگے ، ناقص غذااور گندے پانی نے پاکستانی حاجیوں کو بیمار کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق منی میں سعودی عرب کی جانب سے تقسیم کیا جانے والا کھانا انتہائی ناقص اور غیر معیاری بتایا جارہاہے ۔

اس سلسلے میں مکتب 85,86,87,88کے پاکستانی حجاج نے منی میں شدید احتجاج کیا ۔ صالح نامی شخص کے مطابق دیا جانے والا کھانا انتہائی ناقص بدبو دار ہوتاہے ایسا کھانا پویشیوں کو بھی نہیں دیا جاتا۔ مناسب کھانا نہ ملنے کی وجہ سے کئی حجاج کرام بھوکھے رہنے پر مجبور ہیں ، جبکہ باسی اور بدبو دار کھانا کھا کر کئی خواتین اور بچے بیمار پڑ گے ہیں ۔ عبداللہ نامی حاجی نے بتایا منی میں دیا جانے والا کھانا انتہائی ناقص ہوتا ہے جبکہ پانی بھی گدلے رنگ کا ہے جس کی وجہ سے لوگ بیمار پڑنے لگ پڑے ہیں ان بیماریوں میں پیٹ کے مروڑ اور پیچس کی بیماری عام ہے دوسری جانب ٹائلٹ رومز کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے بدبو کی وجہ سے لوگ ابکائیاں کر رہے ہیں کھانے کے لئے دئیے جانے والی خوراک کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ پاکستانی حجاج کرام کو خشک روٹی اور انڈیا کے بنے ہوئے اچار نما سالن پیک شدہ پیکٹوں میں فراہم کیا جاتاہے ۔دوسری جانب ان مکاتب کے لوگ خود فاسٹ فوڈ اور معیاری کھانا خود کھا رہے ہیں احتجاج کر مکاتب کے عملے کا کہناہے کہ نہیں کھانا تو نہ کھائیں یہاں نخرے نہیں چلیں گے ۔ پاکستانی حجاج کرام نے الزام عائید کیا کہ انہیں سونے کے لئے دیا جانے والے بیڈ ٹوٹے ہوئے ہیں جبکہ منی میں نماز کیلئے کوئی جگہ ہی نہیں کہ نماز ادا کی جاسکے ۔ پاکستانی حجاج کرام نے الزام عائید کیا کہ وزارت مذہبی امور کی جانب سے

انہیں ریلوے اسٹیشن کی رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو جمرات کی جانب آٹھ کلو میٹر تک پیدل چلنا پڑتا ہے یا پھر پرائیویٹ ٹیکسیاں لینی پڑتی ہیں جن کے کرائے پہنچ سے باہر ہیں ، سعودی حکومت نے ٹرین کے ٹکٹ کے لئے فی حاجی 400ریال وصول بھی کیے ہوئے ہیں جب اس بارے میں وزارت مذہبی امور کے حکام کو شکایت کی جاتی ہے تو کہا جاتاہے کہ شکر کرو جو مل رہاہے ورنہ اس سے بھی محروم ہو جاؤ گے)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…