ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

صدرٹرمپ کے بیانات پر 300 امریکی اخبارات کی مہم

datetime 17  اگست‬‮  2018 |

واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)امریکہ کے 300 سے زائد اخبارات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے میڈیا کے خلاف بیانات اور آزادی صحافت کے فروغ کے لیے ایک مہم کا آغاز کیا ہے۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکی اخبار دی بوسٹن گلوب نے گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ کی ’تضحیک آمیز جنگ‘ کے خلاف ملک بھر میں مہم کا اعلان کیا تھا، اس حوالے سے ہیش ٹیگ اینیمی آف نَن(کسی کا دشمن نہیں) بھی استعمال کرنے کو کہا گیا تھا۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے میڈیا کی خبروں کو ’ جعلی خبریں‘ قرار دیتے ہوئے صحافیوں کو ’ عوام کا دشمن‘ قرار دیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئیٹر اکاؤنٹ کے مطابق وہ 281 مرتبہ میڈیا کے خلاف بیان دے چکے ہیں۔اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اس بیان نے صحافیوں کے خلاف تشدد کو بڑھایا ہے۔بوسٹن گلوب نے 16 اگست کو ’ انتظامیہ کے پریس پر حملوں کے خطرات ‘ پر اداریہ لکھنے کا اعلان کرتے ہوئے دوسرے اداروں کو بھی ایسا کرنے کی درخواست کی تھی۔جس کے بعد ابتدائی طور پر بوسٹن گلوب کو 100 صحافتی اداروں کی جانب سے مثبت ردعمل ملا جو اب بڑھ کر 350 تک جا پہنچا ہے، اس مہم میں امریکا کے نامور قومی اخبارات اور چھوٹے مقامی اخبارات شامل ہیں، اس مہم میں بین الاقوامی اشاعتی ادارے بھی شامل ہیں جن میں برطانوی اخبار دی گارجین بھی اس مہم کا حصہ ہے۔بوسٹن گلوب نے اداریے کی ہیڈ لائن شائع کی کہ ’صحافی دشمن نہیں‘ اور اس کے ساتھ آزاد میڈیا امریکا کا اہم اصول ہے جو 200 سال سے قائم رہا ہے۔نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ آزاد میڈیا کو آپ کی ضرورت ہے اور صدر ٹرمپ کی لفظی گولہ باری کو ’جمہوریت پر منڈلاتا ہوا خطرہ‘ قرار دیا، نیویارک ٹائمز نے مختلف اخبارات کے نمونے بھی جاری کیے۔نیویارک پوسٹ نے شائع کیا کہ’ہم اختلاف رائے والے کون ہیں ‘ انہوں نے مزید لکھا کہ ’یہ ناقابل برداشت ہوسکتا ہے۔

کیونکہ ہم متنازع سچائیاں شائع کرتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جعلی خبر دیتے ہیں، مگر بطور صحافی یہ مقبولیت کامقابلہ نہیں، ہم جو کچھ کرسکتے ہیں وہ رپورٹنگ ہے۔فیلاڈیلفیا انکوائرر نے لکھا کہ اس کا شہر امریکی جمہوریت کی جائے پیدائش تھا،’اگر پریس جواب دہی، سزا اور غیر مقبول نظریات یا معلومات سے آزاد نہیں ،تو نہ وہ ملک آزاد ہےاور نہ ہی اس کے لوگ۔کونیپیاک یونیورسٹی نے گزشتہ روز ایک سروے رپورٹ جاری کی تھی جس میں بتایا گیا ۔

ری پبلکن جماعت کے 51 فیصد ووٹر کا ماننا ہے۔کہ’ میڈیا جمہوریت کا اہم حصہ ہونے کے بجائے لوگوں کا دشمن ہے‘ جبکہ ری پبلکن کے 52 فیصد حمایتیوں کو اس بات پر تشویش نہیں تھی کہ صدر ٹرمپ کی تنقید کے نتیجے میں صحافیوں کے خلاف تشدد شروع ہوسکتا ہے۔سروے کے مطابق 65 فیصد ووٹرز نیوز میڈیا کو جہموریت کا اہم حصہ سمجھتے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئیٹر اکاؤنٹ کے مطابق وہ 281 مرتبہ میڈیا کے خلاف بیان دے چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…