جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

اٹلی اور فرانس کے درمیان موٹروے پر پُل اچانک منہدم:30 افراد ہلاک

datetime 15  اگست‬‮  2018 |

روم(انٹرنیشنل ڈیسک)فرانس اور اٹلی کے درمیان واقع مرکزی شاہراہ پر ایک پل اطالوی شہر جینو ا میں شدید طوفان باد وباراں کے دوران میں اچانک گر گیا ہے جس کے نتیجے میں 30 افرا د ہلاک اور آٹھ شدید زخمی ہوگئے ہیں ۔اٹلی کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق فرانس اور اٹلی کے درمیان موٹروے پر واقع مورانڈی پْل قریباً تین سو فٹ ( 90 میٹر) اونچا تھا اور 260 فٹ ( 80 میٹر) طویل تھا۔

منگل کے روز پل ٹوٹنے کے بعد کاروں اور ٹرکوں سمیت بیس گاڑیاں نیچے گہرائی میں عمارتوں پر جا گریں۔ایک امدادی کارکن کا کہنا ہے کہ پل سے گرنے والی گاڑیاں پچک کر رہ گئی ہیں اور بعض مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔ان سے دو افراد کو زندہ حالت میں نکال لیا گیا ہے اور انھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپتال میں منتقل کیا جارہا ہے۔اٹلی کی وزارت داخلہ نے اس حادثے میں گیارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے۔ایک نجی نشریاتی ادارے اسکائی ٹی جی 24 نے اطلاع دی ہے کہ مورانڈی پل کا 200 میٹر ( 650 فٹ ) حصہ ایک صنعتی زون پر منہدم ہو کر گرا ہے اور اس کا ٹنوں وزنی لوہا اور کنکریٹ کا ملبہ نیچے واقع گوداموں پر گرا ہے۔اٹلی کی خبررساں ایجنسی انسا کا کہنا ہے کہ پل کا ڈھانچا کمزور ہوچکا تھا ،اسی لیے وہ دھڑام سے نیچے آ گرا ہے۔تاہم حکام نے فوری طور پر حادثے کے اسباب کی وضاحت نہیں کی ہے کہ یہ پل کیوں گرا ہے۔اٹلی کے ٹرانسپورٹ کے وزیر ڈانیلو ٹونینلی نے اس کو ایک بڑا المیہ قرار دیا ہے۔جائے حادثہ پر قریباً 200 فائر فائٹر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ۔جس شاہراہ پر پل گرا ہے، یہ اٹلی اور فرانس کو ملانے کے علاوہ میلان اور دوسرے شمالی شہروں کو لیگوریا کے ساحل سمندر سے بھی ملاتی ہے۔اس پل کا 1967ء میں افتتاح کیا گیا تھا۔یہ حادثہ اٹلی میں موسم گرما کی بدھ کو فیرا گوسٹو کی بڑی چھٹی سے ایک روز قبل پیش آیا ہے۔ اس چھٹی کے روز ٹریفک کا معمول سے زیادہ رش ہوتا ہے اور اطالوی شہری اپنے علاقوں سے سواحل سمندر اور پہاڑوں کا رْخ کرتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…