جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ڈیم بنانا گلے پڑ گیا،سپل وے کھول دیئے گئے ،بھارت کی 7 ریاستوں میں تباہی مچ گئی،سینکڑوں ہلاک،ایمرجنسی نافذ

datetime 13  اگست‬‮  2018 |

نئی دہلی(این این آئی) بھارت کی 7 ریاستوں میں مون سون بارشوں نے سیلابی ریلے کی صورت اختیار کرلی جس کے نتیجے میں 774 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق برسات کے موسم کے آغاز سے ہی موسلا دھار بارشوں نے 7 بھارتی ریاستوں کو جل تھل کر کے رکھ دیا ہے

برکھا رْت میں آنے والے بادلوں نے جیسے ڈیرے ہی ڈال دیئے تھے۔ مسلسل بارشوں سے ڈیم میں پانی کی سطح بلند ترین حد سے تجاوز کرنے کے سبب ڈیم کے دروازے کھولنے پڑے جس سے ہلاکتوں اور مالی نقصان میں اضافہ ہوا۔وزارت داخلہ کے شعبے نیشنل ایمرجنسی ریسپونس سینٹر کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق مون سون بارشوں کے دوران کیرالہ میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا جہاں 187 افراد لقمہ اجل بن گے ٗ 171 افراد یوپی میں، 170 مشرقی بنگال، مہاراشٹرا میں 139، گجرات میں 52 اور آسام میں 45 افراد ہلاک ہو گئے ہیں ٗان ریاستوں میں زخمیوں کی تعداد 245 سے تجاوز کر گئی ہے، 27 افراد تاحال لاپتہ ہیں جب کہ صرف آسام میں 11 لاکھ 45 ہزار افراد بے گھر ہوئے اور 27 ہزار 5 سو ہیکٹر اراضی پر پھیلی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ محکمہ موسمیات نے اتر پردیش، کیرالہ اور تامل ناڈو سمیت 16 ریاستوں میں آئندہ دو دنوں میں شدید بارشوں سے متعلق ریڈ الرٹ جاری کردیا ہے جس میں لوگوں کو احتیاط برتنے اور چوکنا رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق بھارت میں غیر معمولی بارشوں کی وجہ موسمی تغیر ہے، ماحولیاتی تبدیلیوں سے زمین کا درجہ حرارت ہی تبدیل نہیں ہو رہا بلکہ موسموں کی ترتیب اور انداز پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔  بھارت کی 7 ریاستوں میں مون سون بارشوں نے سیلابی ریلے کی صورت اختیار کرلی جس کے نتیجے میں 774 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…