جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ٹرمپ کے اقتدارمیںآنے کے بعد حالات بدل گئے، امریکہ میں روزانہ بڑی تعداد میں بھارتی نژاد افراد کی گرفتاریاں، امریکی بارڈر ایجنسی کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 12  اگست‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی) امریکی ٹی وی چینل نے انکشاف کیا ہے کہ میکسیکو کے راستے امریکا میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں میں سب سے بڑی تعداد بھارتی نوجوانوں کی ہے۔امریکا حکام نے 2015 میں 6 غیر قانونی بھارتی تارکین وطن کو گرفتار کیا جو میکسیکو کی سرحد پرکرر ہے تھے۔غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں گرفتار ہونے والے بھارتیوں کی تعداد 3 ہزار 400 سے زائد ہو چکی ہے۔

واضح رہے کہ غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے بھارتیوں نے امریکی ریاست کیلیفورنیا کے چھوٹے سے قصبے ایل سینٹرو کے راستے کو اپنایا، امریکی اور میکسیکو کی سرحدیں 9 چھوٹے چھوٹے سیکٹر پر مشتمل ہیں جس میں ایل سینٹرل 70 میل پر مشتمل ہے ۔ایل سینٹرو سیکٹر کے چیف گلوریہ چیویز نے بتایا کہ بھارتی قطرپرواز سے ایکواڈور پہنچتے ہیں اور پھر پیدل یا بسوں کے ذریعے کولمبیا اور پاناما کے جنگل سے گزرتے ہوئے وسطیٰ امریکا میں میکیسکو کے ایل سینٹرو پہنچتے ہیں ۔ان کے مطابق بھارت سے ایل سینٹر تک پہنچنے میں انہیں 8 ہزار میل کا سفر طے کرنا ہوتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایک بھارتی کو امریکا میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے کے لیے عموماً 25 ہزار ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں جبکہ وسطیٰ امریکا میں رہنے والے انسانی اسمگلرز کو 8 ہزار ڈالر ادا کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دوران سفر انسانی اسمگلرز دستاویزات پھینک دیتے ہیں جس کے باعث امریکی حکام کو ان کی شناخت کی نشان دہدی اور بے دخلی میں شدید مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ جب تارکین وطن امریکا کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی سیاسی پناہ کے حصول کے لیے مقدمہ دائر کردیتے ہیں، جس میں وہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ انہیں آبائی ملک میں سیاسی یا مذہبی مقدمے کا سامنا ہے۔ایل سینٹرمیں سرحدی پولیس کے اہلکار جسٹن کاسترونی کے مطابق بھارتی تارکین وطن سے بات کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ وہ پنجابی نہیں بول سکتے جبکہ سیاسی پناہ کے خواہش مند بھارتی تارکین وطن پنجابی زبان بولتے ہیں۔

غیرقانونی بھارتی تارکین مقامی سکھ ٹیمپل سے کھانا اور بس کا ٹکٹ حاصل کرتے ہیں، اس کے بعد ایمیگریشن جج ان کے کیس کی سماعت کرتا ہے جس میں ایک سے دو سال لگ جاتے ہیں۔امریکی بارڈر ایجنڈ نے بتایا کہ وہ یومیہ 5 سے 10 بھارتی نڑاد تارکین وطن کو گرفتار کرتے ہیں جس میں زیادہ تر نوجوان مرد ہیں جو سیاسی پناہ کا دعویٰ کرتے ہیں۔اس ضمن میں بتایا گیا کہ گرفتار ہونے والی بیشتر بھارتی خواتین نچلی ذات سے تعلق رکھتی ہیں اور دعویٰ کرتی ہیں کہ اعلیٰ ذات کے ہندوؤں سے ان کی جان کو خطرہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…