جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت اور بنگلہ دیش میں بڑا تنازعہ کھڑا ہوگیا،40لاکھ مسلمانوں کی ملک بدری،مودی حکومت کے فیصلے کے بعد شدید خوف و ہراس پھیل گیا

datetime 4  اگست‬‮  2018 |

نئی دہلی (این این آئی) بھارت کی ریاست آسام میں شہریوں اور غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کی شناخت کے لیے شہریوں کی فہرست کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ ابتدائی فہرست میں 40 لاکھ شہریوں کو شہریت سے بے دخل کر دیا گیا ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق فہرست تیار کرنے والے ادارے این آر سی نے کہاکہ یہ فہرست ابھی حتمی نہیں ہے اور ان بے دخل ہونے والے شہریوں کو اپنی شہریت کے دعوے کے ثبوت میں مزید دستاویزات یا وضاحتیں پیش کرنے کا ایک موقع اور دیا جائے گا

لیکن اس فہرست سے آسام کے لاکھوں باشندوں کو باہر کرنے سے ریاست کے بنگالی نڑاد لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا ہے۔یہ فہرست سپریم کورٹ کی نگرانی میں بن رہی ہے۔ جن 40 لاکھ لوگوں کے نام فہرست میں نہیں آئے ہیں ان میں ہندو بھی شامل ہیں لیکن حکمراں بی جے پی پہلے ہی یہ وعدہ کر چکی ہے کہ وہ غیر قانونی ہندو بنگلہ دیشی تارکین وطن کو شہریت دے گی اور مسلمانوں کو شہریت نہیں دی جائے گی۔ اس کے لیے شہریت کا ایک ترمیمی بل پہلے ہی پارلیمنٹ میں پیش کیا جا چکا ہے۔شہریوں کی فہرست ابھی تیاری کے درمیانی مرحلے میں ہے۔ آئندہ ہفتے سے لوگ یہ معلوم کر سکیں گے کہ ان کے نام فہرست میں کیوں نہیں آئے ہیں۔ 28 ستمبر تک وہ اپنا جواب داخل کر سکیں گے۔ حتمی فہرست اس کے بعد آئے گی۔شہریت کی تفتیش کا عمل بہت پیچیدہ ہے اور اس سے بھی پیچیدہ لاکھوں ان پڑھ، ناخواندہ اور انتہائی افلاس زدہ لوگوں کے لیے ناموافق حالات میں اپنے آباوجداد کی رہائش کے 70سے 80 برس پرانے کاغذات حاصل کرنا ہے۔ آسام ایک زبردست انسانی بحران کی طرف بڑھ رہاہے۔حکمراں بی جے پی اس انسانی المیے کو اپنی سیاسی فتح سے تعبیر کر رہی ہے۔ پارٹی کے صدر نے ایک نیوز کانفرنس میں اعلان کیا کہ جو 40 لاکھ باشندے فہرست میں نہیں آئے ہیں وہ سبھی غیر قانونی بنگلہ دیشی درانداز ہیں۔ انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو مٹھائی کھلا کر اس فہرست کی خوشی منائی۔ریاست کی بنگالی نڑاد آبادی خوف اور بے یقینی کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔

لاکھوں انسانوں کا مستقبل اور وجود داؤ پر لگا ہوا ہے۔ آئندہ چند مہینوں میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں اس بات کا فیصلہ ہو گا کہ وہ انڈین شہری ہیں یا برما کے روہنگیا کی طرح ان کا بھی کوئی وطن نہیں ہے۔آسام ایک ایسی ریاست ہے جہاں مختلف نسلوں کے لوگ آباد ہیں۔ برطانوی دور میں مشرقی بنگال اور آزادی کے بعد مشرقی پاکستان سے لاکھوں کی تعداد میں بنگالی مسلم یہاں آ کر آباد ہوئے۔ سنہ 1971 میں بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد بڑی تعداد میں ہندو پناہ گزینوں نے یہاں پناہ لی اور بعد میں یہیں آباد ہو گئے۔سنہ 1985 میں ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت 24 مارچ 1971 تک جو بھی ریاست میں سکونت پذیر تھا اسے ریاست کا شہری مانا جائے گا اور جو لوگ ریاست میں اس تاریخ کے بعد آئے انھیں غیر ملکی تصور کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…