جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بندش کے بعد مسجد اقصیٰ نمازیوں کے لئے کھول دی گئی

datetime 28  جولائی  2018 |

مقبوضہ بیت المقدس(مانیٹرنگ ڈیسک)مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس کی جانب سے فلسطینیوں کو قبلہ اول میں داخل ہونے سے روکنے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی دور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ دوسری جانب مسجد اقصیٰ کو چند گھنٹے کی بندش کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فلسطینی وزارت اوقاف کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا

کہ قابض اسرائیلی سیکیورٹی فورسزنے مسجد اقصیٰ کو فلسطینی نمازیوں کے لیے بند کردیا جس کے بعد فلسطینیوں اور قابض فوج کے درمیان قبلہ اول کے اطراف میں جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں۔اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب فلسطینیوں کے ایک گروپ کی طرف سے پولیس پر سنگ باری کی گئی۔ اس پر پولیس کو ان کے خلاف کارروائی کرنا پڑی۔فلسطینی محکمہ اوقاف کے ترجمان نے بتایا کہ قابض اسرائیلی پولیس اور دوسرے سیکیورٹی اداروں نے مسجد اقصیٰ کے داخلی راستوں پر خار دار تاریں لگا کراسے بند کردیا جس کے نتیجے میں باہر موجود فلسطینیوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا تھا اور مسجد کے اندر موجود فلسطینی محصور ہو کر رہ گئے۔انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی پولیس کی ایلیٹ فورس کے اہلکار مسجد قب? الصخرہ پر چڑھ گئے۔ انہوں نے مسجد کے محافظوں اور نمازیوں پر وحشیانہ تشدد کیا جس کے نتیجے میں درجنوں نمازی زخمی ہوگئے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ قابض پولیس نے نمازیوں کو منتشر کرنے اور شہریوں کو قبلہ اول میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے آنسوگیس کی شیلنگ کی اور مسجد میں موجود نمازیوں کو لاٹھیاں برسا کر باہر نکالا۔ اس موقع پر فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ کیدفاع میں نعرے بازی بھی کی۔اسرائیلی پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ نماز جمعہ کے بعد بعض فلسطینیوں نے پولیس پر آتش بازی کے لیے استعمال ہونے والے گولے پھینکے۔

مقامی پولیس کے سربراہ یورام ھالیوی نے پولیس کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کا حکم دیا جس کے بعد نمازیوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔خیال رہے کہ مسجد اقصیٰ جس کے ساتھ تاریخی مقام قب? الصخر? کو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے حرمین شریفین کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 1994ء کے ایک سمجھوتے کے تحت مسجد اقصیٰ کے انتظامی امور کی نگرانی اردن کے سپرد کی گئی تھی۔

اور فلسطین ، اسرائیل کشمکش کے خاتمے تک عبوری طورپر یہ ذمہ داری اردن ہی کو ادا کرنا ہے مگر صہیونی ریاست نے عملا مسجد اقصیٰ پر اپنا غاصبانہ تسلط جما رکھا ہے۔مسجد اقصیٰ میں جھڑپیں اور اسرائیلی پولیس کی طرف سے نمازیوں کو ہراساں کیے جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ ایک سال پیشتر بھی اسرائیلی فوج نے نمازیوں کی تلاشی کے لیے مسجد کے باہر الیکٹرانک

گیٹ نصب کرنے کی کوشش کی تھی مگر کئی روز تک جاری رہنے والے احتجاج اور کشیدگی کے بعد صہیونی حکام کو الیکٹرانک واک تھرو گیٹ ہٹانا پڑے تھے۔مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی فوج کی یلغار پر فلسطین بھر میں شدید غم وغصے کہ لہر پائی جا رہی ہے۔ فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے اس اقدام کو اسرائیلی پولیس اور فوج کی منظم دہشت گردی قرار دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…