بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

مستقبل کے امکانی خطرات’’فیوچر کمانڈ‘‘ امریکا کی نئی عسکری حکمت عملی

datetime 14  جولائی  2018 |

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک)مستقبل کے امکانی خطرات کے پیش نظر ’’فیوچر کمانڈ‘‘ قائم کرنے کا فیصلہ کر لیاگیا ہے ۔امریکا میں کئی دہائیوں کے بعد گزشتہ برس اکتوبر میں مستقبل کے بین الاقوامی خطرات و ممکنہ حالات کے تناظر میں ایک نئی کمان مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ امریکا کی سینٹرل اور پیسفیک کمان کے علاوہ کْل چھ علاقائی کمانیں پہلے ہی قائم کی جا چکی ہیں۔

اس نئی کمان کے لیے امریکا کی بڑی ریاستوں میں شمار کیے جانے والی ٹیکساس کے دارالحکومت آسٹن کو منتخب کیا گیا ہے۔بعض ذرائع نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ آسٹن کا شہر ایک زندہ ماحول رکھتا ہے اور اس کا یہ ماحول فیوچر کمانڈ کے صدر دفتر میں متعین افسران اور دوسرے ملازمین کے لیے سازگار ہو گا۔یہ بھی بتایا گیا کہ اس صدر دفتر میں کم از کم پانچ سو افسران اور عملے کے دیگر ارکان کی تعیناتی کی جائے گی۔ امریکی فوج نے فیوچر کمان کے ہیڈکوارٹرز کے لیے کل پندرہ شہروں کو شارٹ لسٹ کیا تھا۔ ان میں آسٹن کے علاوہ بوسٹن، مِنی اپولس، فلیڈیلفیا اور ریلے بھی شامل تھے۔ ایسے اندازے لگائے گئے ہیں کہ آسٹن شہر کے انتخاب میں اس کے قرب و جوار میں تعلیم، صنعت اور ٹیکنالوجی کی صورت حال کو مدنظر رکھا گیا ہے۔فیوچر کمان ٹاسک فورس کے لیے ترجمان کا فریضہ زمینی فوج کے کرنل پیٹرک سائبر کو تفویض کیا جا چکا ہے۔ کرنل سائبر کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کے کمانڈروں نے ایک ایسے شہر کا انتخاب کیا جہاں فوج کے ملازمین کو رہائش اختیار کرنے میں مشکلات کا سامنا نہ ہو۔اس مناسبت سے فوج کے کمانڈروں نے بعض دوسرے پہلوؤں پر بھی غور کیا گیا کہ صدر دفتر کی تعمیر، اس میں کی جانے والی ریسرچ اور دیگر امور کی ترقی کے لیے کتنی رقم درکار ہو گی۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن لائیڈ ڈوگٹ کا کہنا ہے کہ آسٹن اختراعات کا حامل ایک شہر ہے اور مستقبل کے تقاضوں کا حامل بھی۔ انہی خصائص کی بنیاد پر امریکا کی فیوچر کمان کے لیے یہ بہترین شہر ہو گا۔آسٹن کا ہمسایہ شہر سان انتونیو پہلے ہی ملٹری شہر کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ مبصرین کے مطابق سان انتونیو بھی آسٹن کے انتخاب میں ایک اہم پہلو تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…