اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں کمسن لڑکیوں اور معصوم بچوں کے ساتھ کون سا گھناؤنا کام کیاجارہاہے؟ لرزہ خیز انکشافات

datetime 21  مارچ‬‮  2018 |

ڈھاکہ(مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلہ دیش کے روہنگیا پناہ گزین کیمپوں سے نوجوان لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے سمگل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے ،برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق غیر ملکی افراد کو یہ نو عمر جوان لڑکیاں بہ آسانی دستیاب ہیں جو کہ میانمار (برما) میں جاری تصادم کے نتیجے میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئی ہیں اور اب ان کے سامنے ایک نیا خطرہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق سمگلنگ کی کہانی پناہ گزین کیمپ میں چاروں جانب بکھری پڑی ہیں۔ خواتین اور بچے ان کے زیادہ شکار ہیں جنھیں لالچ دے کر کیمپ سے باہر لے جایا جاتا ہے اور محنت مزدوری یا پھر جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔بچوں کے استحصال کے خلاف بیداری پیدا کرنے والے ادارے فاؤنڈیشن سینٹینل کے ساتھ برطانوی نشریاتی ادارے کی ٹیم نے اس کاروبار کے پس پشت کام کرنے والے نیٹ ورک کے بارے میں تفتیش شروع کی کیونکہ انھوں نے اس بابت بہت سن رکھا تھا۔بچوں اور ان کے والدین نے بتایا کہ انھیں بیرون ملک اور دارالحکومت ڈھاکہ میں گھریلو ملازمت، ہوٹل اور کچن میں کام کی پیشکش کی گئی۔ کیمپ میں موجود افراتفری بچوں کو جنسی صنعت میں دھکیلنے کے بڑے مواقع فراہم کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جسم فروشی کے علاوہ ان کے پاس اپنے اور گھر والوں کو کھلانے کا دوسرا راستہ نہیں ہے۔روہنگیا بحران نے بنگلہ دیش میں جسم فروشی کی صنعت کو پیدا نہیں کیا ہے لیکن عورتوں اور بچوں کی فراہمی میں اضافہ کیا ہے۔ بنگلہ دیش کے روہنگیا پناہ گزین کیمپوں سے نوجوان لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے سمگل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے ،برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق غیر ملکی افراد کو یہ نو عمر جوان لڑکیاں بہ آسانی دستیاب ہیں جو کہ میانمار (برما) میں جاری تصادم کے نتیجے میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئی ہیں اور اب ان کے سامنے ایک نیا خطرہ ہے۔رپورٹ کے مطابق سمگلنگ کی کہانی پناہ گزین کیمپ میں چاروں جانب بکھری پڑی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…