اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

کابل میں مزارپر جشن نوروز کے اجتماع کے قریب خودکش حملہ، 26افراد جاں بحق ، 18زخمی ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ

datetime 21  مارچ‬‮  2018 |

کابل (آئی این پی)افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک مزار کے قریب خودکش حملے میں 26افرادجاں بحق اور 18زخمی ہوگئے ۔بدھ کو افغان میڈیا کے مطابق وزارت داخلہ طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ د ارالحکومت کابل میں واقع سخی مزار کے قریب اس وقت خودکش دھماکہ کیا گیا جب مزار میں جشنِ نوروز منایا جا رہا تھا اور بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے ۔

وزارت داخلہ کے نائب ترجمان نصرت رحیمی نے بتایا کہ یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 40 منٹ پر ہوا۔انھوں نے بتایا کہ ایک خودکش حملہ آور پیدل چلتا ہوا آیا اور وہ مزار کے اندر موجود افراد کو نشانہ بنانا چاہتا تھا کہ پولیس کے روکنے پر حملہ آور نے خودکو دھماکے سے اڑالیا، ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔نائب ترجمان کا کہنا تھا کہ اپنے ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی سکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ آور کو روکا تو اس نے اپنے آپ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔دھماکے کے بعد فوری طور پر امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیں جبکہ پولیس اوردیگر سیکورٹی اداروں نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا جہاں بعض افراد کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔کابل کے سخی مزار کا شمار شہر کے بڑے مزاروں میں ہوتا ہے۔اس سے قبل بھی سخی مزار پر یومِ عاشورہ کے موقع ہونے والے دھماکے میں درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔اس حملہ میں مزار میں موجود شیعہ عزاداروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔فوری طور پر کسی بھی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ۔واضح رہے کہ نوروزایک قدیم ایرانی تہوار ہے جو افغانستان اور ایران سمیت دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اس تہوار کی بنیاد حالانکہ پارسی مذہب پر مبنی ہے تاہم اسے کہیں مسلم ممالک میں اب بھی منایا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…