اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

دبئی کے حکمران محمد بن راشد المکتوم کی جوان بیٹی ’’شہزادی شیخہ لطیفہ‘‘ جیل سے فرار، اتنے بڑے حکمران کی بیٹی جیل میں کیسے پہنچی تھی؟ ایک ویڈیو نے پوری دنیا کو حیران کر دیا

datetime 15  مارچ‬‮  2018 |

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) اپنے اوپر ہونے والے مظالم کی وجہ سے میں ملک سے فرار ہو گئی یہ الفاظ ایک لڑکی کے ہیں جس کی ویڈیو اس وقت وائرل ہے، میل آن لائن نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یہ لڑکی اپنا نام شیخہ لطیفہ محمد بن راشد المکتوم بتاتی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کی بیٹی ہے۔

یہ لڑکی ویڈیو میں اپنا شناختی کارڈ بھی دکھا رہی ہے، اس لڑکی کا مزید کہنا تھا کہ مجھے دبئی میں اپنی مرضی کی زندگی جینے کی آزادی نہیں تھی، مجھے خفیہ طور پر تین سال تک جیل میں قید رکھا گیا اور ہسپتال میں ڈاکٹر مجھے ایسی نشہ آور ادویات دیتے رہے تاکہ میں اپنے باغی رویے سے ہٹ جاؤں، اس نے اپنی عمر بتاتے ہوئے کہا کہ میں 33سال کی ہوں اور میں شیخ محمد کے 30 بچوں میں سے ایک ہوں، اس نے بتایا کہ ایک فرانسیسی جاسوس کی مدد سے ملک سے فرار ہوئی ہوں اور اس وقت بھارت کے ساحل کے قریب ایک کشتی میں موجود ہوں، اس لڑکی کا کہنا ہے کہ میں امریکہ جانا چاہتی ہوں تاکہ وہاں سیاسی پناہ حاصل کر سکوں۔ اس نے بتایا کہ میں نے اس بابت ایک وکیل سے رابطہ کیا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ مجھے 2000ء کے بعد بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں تھی اور میری تمام حرکات و سکنات کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جاتی تھی، اس نے کہا کہ مجھے وہاں عام شہری جتنی آزادی بھی میسر نہیں تھی، اس نے کہا کہ میں وہاں سے نکلنے میں کامیاب تو ہو گئی ہوں لیکن مجھے خطرہ ہے کہ مجھے پکڑ کر دوبارہ جیل میں ڈال دیا جائے گا۔اس نے آخر میں کہا کہ لیکن مجھے امید ہے کہ لوگوں کی مدد سے میں امریکہ میں سیاسی پناہ حاصل کر لوں گی۔160میل آن لائن نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یہ لڑکی اپنا نام شیخہ لطیفہ محمد بن راشد المکتوم بتاتی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کی بیٹی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…