بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

ٹرمپ کِم ملاقات سے پہلے ٹھوس اقدامات لازم ہیں، وائٹ ہائوس

datetime 10  مارچ‬‮  2018 |

واشنگٹن (آئی این پی)وائٹ ہائو س نے اس بات کی نشاندہی کی کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے راہنما، کِم جونگ ان کے درمیان بالمشافی بات چیت پر اتفاق کے بدلے صفر رعایتیں دی گئی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہائوس پریس سکریٹری سارا ہکابی سینڈرز نے کہا ہے کہ ہم طاقتور پوزیشن سے بات کر رہے ہیں، جو بات پچھلی انتظامیہ کے دور میں نہیں تھی۔ انھوں نے کہا کہ یہ ٹرمپ انتظامیہ کے شدید دبا کا ہی نتیجہ ہے۔

اور یہ کہ شمالی کوریا کی آواز کمزور ہے۔سینڈرز نے کہا کہ صدر تب تک ملاقات نہیں کریں گے جب تک وہ شمالی کوریا کی جانب سے ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات ہوتے نہیں دیکھتے۔ جنوبی کوریا کے اہل کاروں نے کہا ہے کہ بین الکوریائی سربراہ اجلاس کے دوران ان سے عہد کیا گیا کہ وہ دیکھیں گے کہ جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل کے تجربات بند ہو جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ صدر کو وہی کچھ مل رہا ہے جو وہ چاہتے تھے: شمالی کوریا کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تلف کر دے۔وائٹ ہاس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ٹرمپ نے یہ پیش کش حیران کن طور پر قبول کی، جس کا جمعرات کے روز جنوبی کوریا کے اہل کاروں نے اعلان کیا کہ وہ کِم سے مئی میں ملاقات کریں گے، جس کی تیاری کے لیے کئی ماہ لگے جس کام میں امریکی حکومت کی کئی متعلقہ ایجنسیاں لگی رہی ہیں۔جمعرات کو جنوبی کوریا کے اہل کاروں کی جانب سے شمالی کوریا کے راہنما کا زبانی پیغام پہنچایا اور جمعے کی صبح امریکی صدر نے چین کے صدر شی جن پنگ کو ٹیلی فون کیا، جس میں امریکہ شمالی کوریا کے سربراہان کی غیر معمولی ملاقات پر بات کی گئی۔وائٹ ہاس کے مطابق، ٹرمپ اور شی نے امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان مکالمے کے امکان کو خوش آئند قرار دیا اور اس بات کا عزم کیا کہ شمالی کوریا پر تب تک دبا اور تعزیرات قائم رہیں گی جب تک وہ مکمل طور پر قابل تصدیق اور جوہری ہتھیاروں کو ناقابل تردید طور پر تلف کرنے کی جانب ٹھوس اقدامات نہیں کرتا۔

صدر ٹرمپ نے اس بات کی توقع کا اظہار کیا کہ شمالی کوریا کے راہنما کِم جونگ ان شمالی کوریا کے لیے ایک روشن راہ کا انتخاب کریں گے۔وائٹ ہاس ترجمان نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ ملاقات کے مقام اور وقت کا ابھی تعین نہیں ہوا۔جمعے کی پریس بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے، سارا ہکابی سینڈرز نے کہا ہے کہ ہم کوئی رعایت نہیں دے رہے ہیں۔ اور یہ کہ ہم طاقت کی پوزیشن میں ہیں ۔

اور بات چیت کا انحصار شمالی کوریا کی جانب سے ٹھوس اور قابل ِ تصدیق اقدامات پر ہے۔ترجمان نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ صدر ٹرمپ مذاکرات کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔تاہم، ترجمان نے کہا کہ امریکی صدر نے شمالی کوریا کے لیڈر سے ملاقات کی دعوت قبول کر لی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں، انھوں نے واضح کیا کہ صدر اپنے مشیروں اور ماہرین سے صلاح و مشورے کے بعد ہی فیصلے کرتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…