جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

چین اور بھارت میں ’’پانی کی جنگ‘‘ شروع،بھارت میں جانے والے بڑے دریا کا رُخ موڑنے کی تیاریاں،بھارتی فوج کے سابق سربراہ نے خبردارکردیا،حیرت انگیزانکشافات

datetime 4  فروری‬‮  2018 |

کولکتہ(آئی این پی/زنہوا) بھارتی فوج کے سابق سربراہ ریٹائر جنرل شنکر رائے چوہدری نے کہا ہے کہ چین کی طرف سے تسانگ پو -بہرم بترادریا کا مبینہ طور پر رخ موڑنے سے بھارت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے اور بھارت کو اس بارے میں فکر مند ہونے کی چنداں فکر مند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر دریا کا رخ موڑنے میں حقیقت ہے تو اس دریا جو کے بھارت میں زبردست بہرم بترا کہلاتا ہے کی اتنی معاون نہریں ہیں

جن میں دریا کے میدانی علاقوں میں آنے سے قبل نشیبی علاقوں میں کافی بارش ہوتی ہے اور اس سے دریا میں پانی بڑھ جاتا ہے “بھارت -چین تعلقات ۔متنازع امور حل کرنے کے طریقے”کے موضوع پر سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے رائے چوہدری نے کہا “اگر چین دریا کے پانی رخ موڑتا بھی ہے تو بھارت کو فکر مند ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ہے”۔چین نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ وہ تسانگ پو کا پانی صوبہ سنکیانک کی طرف موڑ رہا ہے۔تااہم قومی سلامتی کے سابق مشیر ایم کے نارائنن نے معاملے کا سنگین نوٹس لیا اور کہا کہ چین بھارت کے ساتھ آبی جنگ شروع کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔انہوں نے کہا “چین بہرم بترہ پر آبی جنگ شروع کرنے پر بھرپور غور کررہا ہے جنرل رائے چوہدری نے صنعتی و پیداواری محاز میں چین سے پیچھے رہنے پر بھارتی اقتصادی شعبے پر لاپراوہی برتنے کا الزام عائد کیا ۔لارڈ گنشیابتوں تک بھارت میں چین اشیاء ڈمپ کرنے حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا یہ بھارت کی غلطی ہے کہ انہوں نے “تعاون ،مسابقت، اور مقابلہ کرنے کی سہ طرفی مطمع نظر نہیں اپنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کا الزام چین نہیں بلکہ بھارت کی لالچی اورلاپروا اقتصادی شعبے پر عائد کیا جاسکتا ہے ہمیں چین کے مقابلے میں سستی اچھی معیاری مصنوعات تیار کرنی چاہیں ۔انہوں نے کہا ہے کہ “چینی ساختا”بہت پہلے بھارت پر حاوی ہوگی ہیں انہوں نے کہا کہ اس ملک سے مقابلہ کرنے کیلئے بھارتی پیداواری شعبے کو مستحکم بنانا چاہیے

۔انہوں نے کہا کہ چین اور بھارت سیاسی ، اقتصادی اور فوجی کئی محاذوں پر مقابلے میں ہیں۔اگرچہ اس وقت امریکہ ان کا سب سے بڑا مدمقابل ہے تااہم چینی محسوس کرتے ہیں کہ انہیں جس حقیقی چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا وہ بھارت ہے ۔بھارتی فضایہ کے سابق سربراہ ریٹائرڈ ائیر مارشل عریوپ رہا نے کہا کہ بھارت کو اپنے ہمسایوں سے ناراض کرنے کے چینی خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے بھارت کو چاہیے کو وہ ان کو فوجی سازوں سامان فروخت کرکے اور دوطرفہ اور کثیر الجہتی دونوں مشترکہ فوجی مشقیں کرکے ان سے تعلقات بڑھائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…