پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

خطرناک ڈرونز کو گرانے کیلئے شیلڈ کمپنی نے ’’ گن ‘‘ تیار کرلی

datetime 2  فروری‬‮  2018 |

لندن (آن لائن) دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر ڈرونز بنائے جارہے ہیں جو کئی مسائل کی وجہ بن رہے ہیں تاہم اب ایک بہت مثر اور جدید دستی گن سے ان ڈرون کو جام کرکے گرانا بہت آسان ہوگا۔ ترقی یافتہ ممالک میں ڈرونز شوقیہ بھی استعمال ہورہے ہیں اور اب ان سے جان چھڑانے والی ٹیکنالوجی پر بھی کام جاری ہے۔ اس کے علاج کے لیے ڈرون شیلڈ کمپنی نے ایک ڈرون گن بنائی ہے۔ یہ ڈرون گن کئی طرح کی فریکوئنسی بلاک کرکے کئی اقسام کے

ڈرونز کو گراسکتی ہے۔اگرچہ اب فوٹو گرافی اور پیزا پہنچانے کیلیے ڈرون عام طور پر استعمال ہورہے ہیں لیکن کئی مقامات پر یہ خطرناک بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ ان میں نو فلائی زون، حساس ادارے، ایئرپورٹ اور دیگر حکومتی تنصیبات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جیلوں اور دیگر مقامات پر ڈرون منشیات اور ممنوعہ اشیا بھی اسمگل کرنے کیلیے استعمال کیے جارہے ہیں۔اس ضمن میں پہلی ڈرون گن سال 2016 میں بنائی گئی تھی جسے اب مزید بہتر بنایا گیا ہے۔ اس کی خاص صلاحیت یہ ہے کہ یہ دو کلومیٹر کی دوری تک ڈرون کو ملنے والے سگنلز میں رخنہ ڈال دیتی ہے جس سے گارڈ کو ہمیشہ گن اٹھائے چوکنا رہنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس طرح یہ گن ایک طرح کا غیرمرئی بلبلہ بناتی ہے تاکہ ڈرون کو ناکارہ کرکے گرایا جاسکے۔اس گن میں ایک آپشن یہ بھی ہے کہ آپ ڈرون کنٹرول کرکے اسے دوبارہ وہیں دھکیل سکتے ہیں جہاں سے یہ اڑا تھا، یعنی آپ دوسرے کے ڈرون کے پائلٹ بن سکتے ہیں۔ دوسرے آپشن میں ڈرون کے جی پی ایس سگنل کو متاثر کرکے اسے فوری طور پر لینڈ کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں ڈرون کو تفتیش کیلیے گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے۔یہ ڈرون گن بہت ہلکی پھلکی ہے اور 433 میگا ہرٹز سے لے کر 5.8 گیگا ہرٹز تک کے بینڈ استعمال کرنے والے ڈرون کو ناکارہ بناسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…