پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

کابل میں بدترین قتل عام ،صرف 4طالبان نے تباہی مچادی،حملے میں ہلاکتوں کی تعداد میں خوفناک اضافہ

datetime 23  جنوری‬‮  2018 |

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے دارالحکومت میں ہوٹل پر ہونے والے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 43 ہوگئی ہے جن میں 14 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک پنج ستارہ ہوٹل پر طالبان کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 43ہوگئی ہے جبکہ درجنوں زخمی ہیں تاہم افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے حملے میں چار افغان شہریوں اور 14 غیر ملکیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

واقعہ میں41غیر ملکیوں سمیت 160 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد حکومتی اداروں کی جانب سے بتائی گئی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔کابل میں چھ منزلہ ہوٹل پر ہفتے کی شب طالبان کی جانب سے حملہ کیا گیا جس میں جنگجوں اور افغان سیکیورٹی فورسز میں مقابلہ 17 گھنٹے تک جاری رہا۔ واقعے کے وقت ہوٹل میں بڑی تعداد میں غیر ملکی شہری موجود تھے۔افغان وزارت داخلہ کے ترجمان رکے مطابق حملے کے بعد ہوٹل کو کلیئر قرار دے دیا گیا ہے اور تمام 4 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ٗ غیر ملکیوں کی قومیت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ حملے میں ہلاک 11غیر ملکی نجی افغان ایئر لائن کام ایئر کے ملازمین تھے جبکہ ایئرلائن کے سی ای او نے بتایا کہ ان کی کمپنی کے 42افراد ہوٹل میں موجود تھے جن میں سے 16اب بھی لاپتہ ہیں۔افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ حملہ آور پہلے سے ہی ہوٹل کے اندر موجود تھے جنہوں نے موقع دیکھ کر حملہ کردیا البتہ تحقیقات مکمل ہونے تک کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ہوٹل پر حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم طالبان نے قبول کی ہے۔  افغانستان کے دارالحکومت میں ہوٹل پر ہونے والے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 43 ہوگئی ہے جن میں 14 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک پنج ستارہ ہوٹل پر طالبان کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 43ہوگئی ہے جبکہ درجنوں زخمی ہیں تاہم افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے حملے میں چار افغان شہریوں اور 14 غیر ملکیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…