پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

کابل کے لگژری ہوٹل پر حملے میں پانچ افراد ہلاک، چاروں حملہ آوربھی مارے گئے

datetime 21  جنوری‬‮  2018 |

کابل(این این آئی)کابل کے لگژری ہوٹل پر دہشت گردوں کے حملے میں پانچ افراد ہلاک اور14 زخمی ہوگئے ،سیکیورٹی اہلکاروں کی 12 گھنٹوں تک جاری کارروائی کے بعد کابل کے انٹرکانٹینینٹل ہوٹل پر ہونے والے چار مسلح افراد کے حملہ اور بعد ازاں قبضے کو ختم کر دیا گیا ۔ اس کارروائی میں پانچ شہری ہلاک ہوئے جبکہ 6 زخمی ہوئے ۔

غیرملکی خبررساں ادار ے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں واقع ایک لگژری ہوٹل پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں جبکہ جوابی کارروائی میں چارحملہ آوروں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔افغان حکام کے مطابق ہوٹل کے اندردہشت گرد وں کی فائرنگ سے سات افرادزخمی ہوئے ، ہوٹل میں موجود کچھ افراد کو یرغمال بنایا گیا جبکہ سات افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ادھر ترجمان وزارت داخلہ کا کہناتھا کہ سیکیورٹی اہلکاروں کی 12 گھنٹوں تک جاری کارروائی کے بعد کابل کے انٹرکانٹینینٹل ہوٹل پر ہونے والے چار مسلح افراد کے حملہ اور بعد ازاں قبضے کو ختم کر دیا گیا ۔ اس کارروائی میں پانچ شہری ہلاک ہوئے جبکہ 6 زخمی ہوئے۔افغان وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ سپیشل فورسز نے چار حملہ آروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ 150 مہمانوں کو ہوٹل پر ہونے والے حملے میں بچا لیا گیا ۔ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق ہوٹل میں مہمانوں میں غیرملکی بھی شامل تھے اور اس کی عمارت کی تیسری منزل پر آگ بھڑک اٹھی تھی جہاں کچن واقع ہے۔افغان خفیہ ادارے کے ایک اہلکار نے خبررساں ادارے کو بتایا کہ مسلح افراد مہمانوں پر فائرنگ کر رہے تھے۔اب تک اس حملے کی ذمہ داری کسی تنظیم نے نہیں اٹھائی ہے تاہم طالبان نے اسی ہوٹل پر 2011 میں حملہ کیا تھا۔بعض اطلاعات کے مطابق ہوٹل میں ایک آئی ٹی کانفرنس منعقد ہو رہی تھی ۔

جس میں صوبائی حکام بھی موجود تھے۔ ایک عینی شاہد نے خبررساں ادارے کو بتایا کہ حملوں آوروں نے لوگوں کو یرغمال بھی بنایا تھا۔خیال رہے کہ امریکی سفارت خانے کی جانب سے ایک روز قبل ہی کابل میں عوامی مقامات پر ممکنہ حملے کی تنبیہ جاری کی تھی۔ہوٹل میں ایک مہمان نے خبررساں ادارے کو بتایا کہ لوگ اپنے کمروں میں چھپے ہوئے تھے۔

ایک مہمان کا کہنا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ حملہ آور ہوٹک کے اندر تھے یا نہیں لیکن میں پہلی منزل کے قریب سے گولیوں کی آواز سن سکتا تھا۔خیال رہے کہ انٹرکانٹینینٹل سرکاری ہوٹل ہے جہاں اکثر شادیاں، کانفرنسیں اور سیاسی تقریبات منعقد ہوتے ہیں۔ اسی ہوٹل کو طالبان کی جانب سے سنہ 2011 میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں نو حملہ آوروں سمیت 21 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…