پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

افغانستان میں پولیس ہیڈکوارٹرز پر خود کش حملہ،افسران سمیت6 اہلکار ہلاک،5زخمی ،طالبان نے ذمہ داری قبول کرلی

datetime 22  دسمبر‬‮  2017 |

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں پولیس ہیڈکوارٹرز پر خودکش کاربم دھماکے میں پولیس افسران سمیت 6 اہلکار ہلاک اور5زخمی ہوگئے ،طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی،ادھر مشرقی صوبہ ننگرہار میں امریکی ڈرون حملے میں 3طالبان جنگجو ہلاک ہوگئے جبکہ سیکورٹی فورسز کے آپریشنز میں 6داعشی جنگجوؤں سمیت 50شدت پسند ہلاک اور 19دیگر زخمی ہوگئے۔جمعہ کو افغان میڈیا کے مطابق قندھار کے ضلع میوند میں واقع

پولیس ہیڈکوارٹرز سے خودکش حملہ آور نے بارود سے بھر گاڑی ٹکرادی۔ ضلعی پولیس چیف محمد سلطان کا کہنا ہے کہ حملہ آور کو پہلی سیکورٹی چیک پوسٹ پر روکنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ بچ نکلا اور دوسری چوکی پر اہلکاروں نے اسے روکا تو اس نے تیز رفتار گاڑی عمارت سے ٹکرادی، حملے میں کم از کم 3 ہزار کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا جو زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں پولیس افسران سمیت6اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جب کہ 5زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔پولیس چیف نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ خودکش حملہ اس قدر شدید تھا کہ ہیڈکوارٹرز کی عمارت مکمل طورپر تباہ ہوگئی جب کہ متصل عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا،حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے مقامی تھے جو عرصہ دراز سے ہیڈ کوارٹرز میں ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد علاقے میں سرکاری تنصیبات اور پولیس تھانوں کی سیکورٹی مزید سخت کرتے ہوئے اضافی پولیس اہلکار تعینات کردیے گئے ہیں۔دوسری جانب طالبان نے واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مزید حملوں کی دھمکی دی ہے۔ادھر مشرقی صوبہ ننگرہار میں امریکی ڈرون حملے میں 3طالبان جنگجو ہلاک ہوگئے ۔حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون حملہ ضلع غنی خیل میں کیا گیا ۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فضائی حملے میں 3طالبان جنگجو مارے گئے جبکہ انکا اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ ہوگیا۔

دوسری جانب وزارت دفاع کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 24گھنٹوں میں افغان سیکورٹی فورسز کے آپریشنز میں 6داعشی جنگجوؤں سمیت 50شدت پسند ہلاک اور 19دیگر زخمی ہوگئے ۔سیکورٹی فورسز نے ملک کے مختلف حصوں میں آپریشن کیے جن میں فضائی اور آرٹلری کی مدد بھی حاصل تھی ۔بیان کے مطابق آپریشن صوبہ ننگرہار،غزنی ،پکتیا،قندھار،ارزگان،میدان واردک،فریاب،ہرات اور ہلمندمیں کیے گئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…