ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

سائبر حملوں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

datetime 9  اگست‬‮  2017 |

لندن(این این آئی)دنیا بھر میں سائبر حملوں کا سلسلہ جاری ہے بلکہ ان کی تعداد اور پیچیدگی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی کمپنیوں نے ان حملوں کے اثرات کا اپنی مالیاتی دستاویزات میں اندراج شروع کر دیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق لندن کی انشورنس مارکیٹ کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ عالمی سطح پر ایک بڑا سائبر حملہ

اقتصادی طور پر اوسطا 53 ارب ڈالر کے خسارے کا باعث بنتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ رقم 2012 میں امریکا میں آنے والی قدرتی آفت یعنی سینڈی طوفان کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کے مساوی ہے !یہ رپورٹ سائبر خطرات کا جائزہ لینے میں انشورنس کمپنیوں کی مدد کرنے والی معروف فرم سائینس کے تعاون سے تیار کی گئی ہے۔ رپورٹ میں سائبر حملے کے خسارے کا کم از کم اندازہ 5 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جب کہ زیادہ سے زیادہ حد 120 ارب ڈالر سے متجاوز قرار دی گئی ہے۔دل چسپ بات یہ ہے کہ خسارے کی مذکورہ رقم بعض عرب ممالک کے سالانہ بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ مثلا تیونس جہاں 2016 کے بجٹ کا حجم 14.52 ارب ڈالر اور 2017 میں 15.7 ارب ڈالر رہا۔ لبنان کے حالیہ بجٹ کا حجم 15.7 ارب ڈالر ہے۔ اسی طرح سوڈان کا مجموعی بجٹ 14.2 ارب ڈالر کا ہے۔عالمی کمپنیوں کی جانب سے سائبر خطرات کے خلاف انشورنس کی طلب میں اضافے کے سبب انشورنس کمپنیوں کو ممکنہ سائبر حملوں اور ان سے متعلق نقصانات کا تخمینہ لگانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انشورنس کمپنیوں کے لیے ناقص ڈیٹا کے ساتھ فرضی خطرے کا جائزہ لینا کسی طور بھی آسان نہیں۔جون 2017 میں ایک ناٹ پیٹیا کے نام سے ایک وائرس یوکرین سے نکل کر دنیا بھر میں پھیلا جس کے نتیجے میں ہونے والے اقتصادی خسارے کا حجم 85 کروڑ ڈالر رہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…