جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

سائبر حملوں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

datetime 9  اگست‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لندن(این این آئی)دنیا بھر میں سائبر حملوں کا سلسلہ جاری ہے بلکہ ان کی تعداد اور پیچیدگی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی کمپنیوں نے ان حملوں کے اثرات کا اپنی مالیاتی دستاویزات میں اندراج شروع کر دیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق لندن کی انشورنس مارکیٹ کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ عالمی سطح پر ایک بڑا سائبر حملہ

اقتصادی طور پر اوسطا 53 ارب ڈالر کے خسارے کا باعث بنتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ رقم 2012 میں امریکا میں آنے والی قدرتی آفت یعنی سینڈی طوفان کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کے مساوی ہے !یہ رپورٹ سائبر خطرات کا جائزہ لینے میں انشورنس کمپنیوں کی مدد کرنے والی معروف فرم سائینس کے تعاون سے تیار کی گئی ہے۔ رپورٹ میں سائبر حملے کے خسارے کا کم از کم اندازہ 5 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جب کہ زیادہ سے زیادہ حد 120 ارب ڈالر سے متجاوز قرار دی گئی ہے۔دل چسپ بات یہ ہے کہ خسارے کی مذکورہ رقم بعض عرب ممالک کے سالانہ بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ مثلا تیونس جہاں 2016 کے بجٹ کا حجم 14.52 ارب ڈالر اور 2017 میں 15.7 ارب ڈالر رہا۔ لبنان کے حالیہ بجٹ کا حجم 15.7 ارب ڈالر ہے۔ اسی طرح سوڈان کا مجموعی بجٹ 14.2 ارب ڈالر کا ہے۔عالمی کمپنیوں کی جانب سے سائبر خطرات کے خلاف انشورنس کی طلب میں اضافے کے سبب انشورنس کمپنیوں کو ممکنہ سائبر حملوں اور ان سے متعلق نقصانات کا تخمینہ لگانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انشورنس کمپنیوں کے لیے ناقص ڈیٹا کے ساتھ فرضی خطرے کا جائزہ لینا کسی طور بھی آسان نہیں۔جون 2017 میں ایک ناٹ پیٹیا کے نام سے ایک وائرس یوکرین سے نکل کر دنیا بھر میں پھیلا جس کے نتیجے میں ہونے والے اقتصادی خسارے کا حجم 85 کروڑ ڈالر رہا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…