جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

’’میں پاکستان نہیں آ سکتا، قطر آکر کر لیں جو کرنا ہے‘‘ قطری شہزادے نے جے آئی ٹی کے دوسرے خط کا بھی ’صاف‘ جواب دے دیا

datetime 14  جون‬‮  2017 |

دوحہ (مانیٹرنگ ڈیسک)قطری شہزادے شیخ حماد بن جاسم نے پاناما کیس کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی کے دوسرے خط کا بھی جواب دے دیا۔ذرائع کے مطابق ،قطری شہزادے شیخ نے جے آئی ٹی کو پیشکش کی ہے کہ وہ قطر آ کران سے انٹرویو کرلیں،اس سلسلے میں سفارتخانے کے ذریعے تاریخوں کے تعین کیلئے مشاورت کی جائے۔شیخ حماد بن جاسم نے اپنے دوسرے خط میں بھی کہا ہے کہ وہ اپنے پرانے موقف پرقائم ہیں۔

اس سے قبل قطری شہزادے حماد بن جاسم نے سپریم کورٹ میں پیش ہونے والے اپنے دستخط شدہ خط کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خط میں بھیجے گئے اپنے متن پرقائم ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ’ جب جے آئی ٹی کا پہلا خط آیا تواس وقت میں قطر سے باہرتھااوریہ خط قطرمیں پاکستانی سفیرنے پہنچایا تھا،میں نے واپسی پراس کا جواب دے دیا،جوجے آئی ٹی کووزارت خارجہ کے ذریعے مل گیا ہے’۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘جے آئی ٹی کے خط میں مجھ سے پوچھا گیا تھا کہ شریف خاندان کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش کئے جانے والے خط کیا ان کے ہیں؟’۔‘میں نے جواب میں بتایا کہ یہ خط میرے ہیں اورمیں نے ہی بھیجے تھے،میرا جواب ملنے سے قبل ہی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی تھی، لہذا میں سمجھتا ہوں کہ جے آئی ٹی نے مجھ سے جو پوچھا اسے اس کا جواب مل گیا ہے۔’ذرائع کے مطابق ،پاناما معاملے کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے 19 مئی کو قطری شہزادے کوخط لکھ کر25 مئی کوپیش ہونے کا حکم دیا تھا۔جس پرانہوں نے جواب دیدیا تھا کہ میں دونوں خطوط کی تصدیق کرتا ہوں،اب شیخ حماد بن جاسم نے جے آئی ٹی کے دوسرے خط کا جواب دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…