جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

ایران کاایٹم بم تیاری کے مرحلے میں،مبینہ مصدقہ اطلاعات نے دنیابھر میں ہلچل مچادی

datetime 22  اپریل‬‮  2017 |

تہران/واشنگٹن (آئی این پی)ایرانی حکومت کے مخالف مجاھدین خلق کے مندوبین نے ایران کے اندر سے مصدقہ اطلاعات فراہم کی ہیں اور بتایا ہے کہ معاہدے کے باوجود ایران میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا بنیادی ڈھانچہ اپنی جگہ قائم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی مقامات پر نئے پلانٹ بھی لگائے جا رہے ہیں مگر انہیں خفیہ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے،ایران کاایٹم بم تیاری کے مرحلے میں،

مبینہ مصدقہ اطلاعات نے دنیابھر میں ہلچل مچادی،ایرانی اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا سمیت چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری پروگرام کو روکنے کا معاہدہ کرنے کے باوجود ایران ایٹم بم کی تیاری پر کام کر رہا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران کی بیرون ملک اپوزیشن قومی مزاحمتی کونسل نے کہا ہے کہ تہران رجیم نے جولائی 2015 کے دوران چھ عالمی طاقتوں سے طے پایا سمجھوتہ پس پشت ڈال دیا ہے۔ ایرانی حکومت جوہری سرگرمیوں پر پابندی کا معاہدہ قبول کرنے کے باوجود ایٹم بم تیار کر رہی ہے۔امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں ایرانی اپوزیشن کے نمائندہ دفتر میں ایک پریس بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایران نے بارچین فوجی اڈے پر جوہری اسلحہ سازی کا ایک نیا ریسرچ سینٹر قائم کیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران جوہری بم کی تیاری پر مسلسل کام کر رہا ہے۔ایرانی حکومت کے مخالف مجاھدین خلق کے مندوبین نے ایران کے اندر سے مصدقہ اطلاعات فراہم کی ہیں اور بتایا ہے کہ معاہدے کے باوجود ایران میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا بنیادی ڈھانچہ اپنی جگہ قائم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی مقامات پر نئے پلانٹ بھی لگائے جا رہے ہیں مگر انہیں خفیہ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ عالمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں سے انہیں خفیہ رکھا جا سکے۔

ایران سے ملنے والی معلومات کے مطابق سات ذیلی گرپوں پر مشتمل ایران کا ایک ریسرچ مرکز جسے SPND کا نام دیا گیا ہے جوہری اسلحے کی تحقیق میں سرگرم ہے۔ایرانی اپوزیشن نے 2011 میں اس ادارے کا پتا چلایا تھا۔ اس کے تین سال بعد 29 اگست 2014 کو امریکی وزارت خارجہ نے اس تنظیم کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔سپند کی قیادت اس وقت پاسداران انقلاب کے بریگیڈیئر محسن فخری زادہ مہا آبادی کے پاس ہے۔

اسے اصل نام کے بجائے ڈاکٹر حسن محسنی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ شخص ایران میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں محوری کردار اد کرہا ہے۔صدر حسن حسن روحانی نے سپند کے ڈھانچے میں تبدیلیاں کرنے کی کوشش کی تھی اور اسے کچھ عرصہ کے لیے وزیر دفاع حسین دھقان کے ماتحت کردیا گیا تھا۔ اس کا ہیڈ کواٹر تہران میں شاہراہ لنکری پر وزارت دفاع کے قریب نور منزل میں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…