بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

’’بھوتوں کا شہر ‘‘ کیا آپ جانتے ہیں اس دنیا میں موجود ایک جگہ کو بھوتوں کا شہر کہا جاتا ہے ۔۔ ایسا کیوں ہے ؟

datetime 3  مارچ‬‮  2017 |

نیویارک(این این آئی) حلب جہاں کئی انسانوں کا خون بہا۔جہاں عزتیںپامال ہوئیں ۔ جہاں بچوں کو وقت سے پہلے جوان ہونا پڑا ، میری سمجھ سے بالا تر ہے کہ اس جگہ کو بھوتوں کا شہر کیوں کہا جا تا ہے ۔ ہاں یہ سچ کہ یہاں انسان نے اس قدر تباہی مچائی کہ اب یہ جگہ کچھ ایسے ویران نظر آتی ہے جیسے یہاں جنات کا، بھوتوں کا ، چڑیلوں کا بسیرا ہو مگر

اس ساری کارروائی کے پیچھے تو کوئی جن ، بھوت، کوئی عفریت یا چڑیل نہیں تھی۔ یہاں وجہ تھی حضرت انسان جس نے ان سب ہوائی چیزوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ شام کے شمالی شہر حلب میں خون کی ندیاں بہا دینے کے بعد امن تو قائم ہوا مگر شہر مکمل طور پر تباہ وبرباد اور ویران ہوچکا ہے۔ آبادی سے خالی اور تباہی و بربادی کے بدترین مناظر دیکھنے والوں کے رونگٹے کھڑی کر دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے تسلیم کیا ہے کہ حلب کو چھڑانے کے لیے شامی حکومت کی طرف سے جو قیامت ڈھائی گئی وہ جنگی جرم ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق اقوام متحدہ کی طرف سے حلب میں جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ کمیشن نے جاری کردہ اپنی رپورٹ میں کہا کہ گذشتہ دسمبر میں مشرقی حلب سے لاکھوں عام شہریوں اور جنگجوؤں کو نکال باہر کرنا ‘جنگی جرم‘ تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرقی حلب سے آبادی کا انخلا وہاں پر لڑنے والے حکومت اور اپوزیشن کے گروپوں کے درمیان ایک تزویراتی بنیادوں پر کیا گیا جس میں شہریوں کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی۔ فوجی ضرورت کے پیش نظر شہروں کے انخلا کی

اجازت دینے کے بعد مخصوص گروپوں نے جبرا شہریوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا۔ ایسا کرنا سنگین جرم تھا جسے جنگی جرم ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔اقوام متحدہ کے تحقیق کاروں نے اپنی تازہ رپورٹس میں جولائی 2016ء سے 22 دسمبر 2016ء کے درمیانی عرصے میں مشرقی حلب پر روزانہ کی بنیاد پر شامی اور روسی فوج کی بمباری کی تفصیلات بیان کی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بمباری کے دوران دانستہ طور پر لاکھوں شہریوں کو ان کے گھروں سے نکالنے کے لیے اسپتالوں، اسکولوں اور شہری آبادی کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے الزام عاید کیا کہ شامی فوج کی طرف سے حلب میں امداد لے جانے والے عالمی امدادی قافلے کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا جنگی جرم تھا۔رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ

گذشتہ برس دسمبر میں مغربی حلب میں ایک اقوام متحدہ اور ہلال احمر کے مشترکہ امدادی قافلے پر بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں امدادی کام بری طرح متاثر ہوا تھا۔رپورٹ میں کہا گیاہے کہ شامی فوج کی طرف سے امداد لے جانے والے کارکنوں پر بمباری کرنا سنگین جنگی جرم ہے اور اس کی تحقیقات کی جانی چاہئیں کہ آیا اقوام متحدہ کے امدادی قافلوں پر بمباری کیوں کی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…